’امریکہ، بھارت کا مؤقف یکساں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ اور امریکی صدر بش نے کہا ہے امریکہ اور بھارت کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں اور آزادی اور جمہوریت جیسے معاملات پر دونوں ممالک یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ یہ بات دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ من موہن سنگھ نے دہشتگردی کے خلاف صدر بش کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک ایسا پر امن نیوکلیائی پروگرام بنانے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت قّوت(انرجی) کے صاف اور قابلِ رسائی ذرائع مہیا کیے جا سکیں گے۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات جتنے مضبوط آج کل ہیں کبھی نہ تھے۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سمجھوتوں کا بھی ذکر کیا۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے دورہ امریکہ کے آغاز پر کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس اہم دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ بات انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر جارج بش کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے کے موقع پر کہی۔ من موہن کے ایجنڈے پر سکیورٹی کونسل میں بھارت کے لیے مستقل رکنیت حاصل کرنے کی مہم کو آگے بڑھانا بھی شامل ہے۔تاہم اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا کہ امریکہ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت کرے گا۔ وائٹ ہاؤس میں من موہن سنگھ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت مشترکہ مفادات اور روایات رکھتے ہیں اور ان دونوں ممالک کو ایک جیسے خطرات کا ہی سامنا ہے۔ صدر بش نے اس موقع پر کہا کہ بھارت دنیا کو ایک پر امن جگہ بنانے کے عمل میں امریکہ کا قریب ترین ساتھی ہے۔ من موہن سنگھ منگل کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ اس سے قبل بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے خلاف اس تنقید کو سختی سے رد کر دیا کہ وہ غیر وابستہ ملکوں کی تنظیم کے اصولوں پر امریکہ سے سودی بازی کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نےامریکہ کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوتے ہوئے اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کی آخر سانس تک بھارت کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ بھارت کے خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ ’بھارت قابل فروخت نہیں ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||