منموہن سنگھ کا 3 روزہ دورۂ امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان کے امریکہ کے دورے سے دونوں ملکوں کےتعلقات میں بہتری آئیگی۔ امریکہ کے تین روزہ دورے پر روانگی سے قبل ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے دائرے کو بڑھانا ہندوستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبےمیں ہمارے رشتے بہتر ہونگے اور خلا اور توانائی کے شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوگا،۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے دائرے کو مزید وسیع کرنا ہندوستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بقول ایسا کرنا دوطرفہ معاملات کے علاوہ عالمی چیلنجیز کا سامنا کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایجنڈے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات اور دہشت گردی کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ جاپان، جرمنی، برازیل اور ہندوستان، سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر مسٹر سنگھ کی کوشش ہوگی کہ وہ امریکہ کی حمایت حاصل کریں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایودھیا پرحملہ اور کشمیر میں دراندازی کے کئی واقعات کے بعد دہشت گردی کا معاملہ بھی خصوصی طور پر زیر غور رہیگا۔ توقع ہے کہ منموہن سنگھ واشنگٹن میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات میں باہمی تعلقات، اقتصادی اور سیاسی امور پرتبادلہ خیال کرینگے۔ پروگرام کے مطابق بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔ ہندوستانی وزیراعظم انیس جولائی کو امریکی کانگریس سے خطاب کرینگے جبکہ وہ امریکہ کے بڑے بڑے صنعت کاروں سے بھی ملاقات کرینگے۔ وزیراعظم کے ہمراہ ہندوستان کے دس بڑے صنعت کار بھی واشنگٹن جارہے ہیں جو توقع ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||