’معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو مختلف شہروں میں آنے کی دعوت دے کر پاکستان نے بھارت کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ من موہن سنگھ کا یہ بیان سابق بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کے خط کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں مسٹر واجپئی نے حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے حوالے سے چند سوالات اٹھائے تھے۔ حریت کانفرنس کے متعدل سوچ رکھنے والے کچھ رہنماؤں نے بھارتی حکومت کی اجازت سے پاکستان کا ایک دورہ کیا تھا جس میں وہ مظفر آباد کے علاوہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد بھی گئے تھے۔ حریت رہنماؤں کے یہاں آنے سے پہلے بھارتی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے حریت رہنماؤں کو مختلف شہروں میں جانے کی اجازت دی تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی حوالے سے اٹل بہاری واجپئی نے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ مسٹر واجپئی نے کانگریس حکومت پر یہ کہہ کر تنقید کی تھی کہ انہوں نے حریت کے رہنماؤں کے پاکستان کے دورے کا انتظام احسن انداز سے نہیں کیا جس کی وجہ سے اس دورے میں خرابیاں سامنے آئیں۔ تاہم مسٹر واجپئی کے اعتراض کے جواب میں وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے کہا ’جن حریت رہنماؤں کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے انہیں پاسپورٹ جاری کئے گئے اس لئے (سابق وزیرِ اعظم کا) یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہندوستان کے حکام نے اس سلسلے میں صحیح طریقے سے کام نہیں کیا۔‘ مسٹر سنگھ نے جوابی خط میں اٹل بہاری واجپئی کو لکھا ہے کہ کشمیر سے متعلق ان کی حکومت کی پالیسی با لکل واضح ہے۔’ہماری کوشش یہی ہے کہ ہند پاک مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ہم نے بات چیت میں ملک کے مفاد سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔‘ مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق حکومت کے موقف ميں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ ’ میں نے ہر ممکن موقع پر اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ ثالث یا مددگار کی شکل میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘ مسٹر سنگھ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کمپوزٹ ڈایئلاگ کو کشمیر پر مرکوز کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||