BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پائیدار امن، کشمیر کاحل ضروری

انڈیا ٹوڈے کے پروگرام میں بہت سی عالمی شخصیات نے شرکت کی
انڈیا ٹوڈے کے پروگرام میں بہت سی عالمی شخصیات نے شرکت کی
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تابناک مستقبل کے لیے آپس میں اقتصادی تعاون اور پائیدار امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم میں اختلافات ہیں لیکن کشمیر جیسے بنیادی مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔ اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے انڈیا ٹوڈے کے خصوصی پروگرام ’ کان کلیو‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں بعض معمالات پر اختلافات ہیں تاہم دونوں ممالک کی عوام کو تابناک مستقبل کی تلاش ہے۔ انہوں نے کہا بد قستمی سے ہم اب بھی آپس کی کشیدگی کا شکار ہيں۔ لیکن یہ ہمارے حق میں نہیں ہے اور اسے ٹوٹنا چاہیے۔

شوکت عزیز نے اس موقع پر جموں کشمیر تنازعے کا خصوصی ذکر کیا اور کہا ہے کہ اسے حل کرنے کے لیے پاکستان نےلچک دار رویہ اختیار کیا ہے تاکہ پرانے معاملے کو جدید طریقوں سے حل کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیمر بنیادی تنازعہ ہے اور انہیں یقین ہے کہ آپس کی مفاہمت سے اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کوئی زمینی یا نظریاتی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہےجسے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمیں معلوم ہے کہ بہت سی مشکلات کے باوجود ہندوستان کا آزاد ضمیر اس حقیقت سے آشنا ہے کہ کشمیر کے سوال پر اسے جواب دینا ہے۔ لیکن امن و سلامتی کےلیے ہندوستان کو اس کے صحیح اظہار کے لیے پرخار راستوں سے گزرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا ’جہاں تک پاکستان کا سوال ہے کشمیر تنازعے کے حل کے لیے وہ ہر سنجیدہ کوشش کےلیے تیار ہے اور وہ اس سلسلے میں کوئی غیر واجب رعایت یا بے جا مطالبہ نہیں کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ کشمیر کی تحریک آزادی کو سرحد پار سے دہشت گردی کا نام دے کر اسے پوری طرح خارج کر دینا حقائق سے چشم پوشی ہوگی۔ اور اس کے نتائج بھی المناک رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی کو بھلا کراور ایک جدید مستقبل کی تعمیر کرنا چاہيئے جس کی بنیاد پر امن فضاؤں پر ہو۔ انہوں نے اس موقع پر پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ اقتصادی ترقی کے بغیر خطے میں خوشحالی ممکن نہیں ہے۔

انڈیا ٹوڈے گروپ کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مسٹر شوکت عزیز کو نئی دلی آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مصروفیات کے سبب وہ نئی دلی تو نہیں پہنچے لیکن اسلام آباد سے انہوں نے ویڈیو کے ذریعے کانفرنس کو خطاب کیا۔ دو روزہ کی اس کانفرنس میں امریکی رہنما ہیلری کلنٹن، افغانستان کے صدر حامد کرزئی ، ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ، بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن اور ادیب نائے پال جیسی عالمی رہنما اور دانشور شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد