شیخ رشید کو آنے سے روکیں: واجپئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کو سری نگر آنے سے منع کریں۔ حزب اختلاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے نام ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کشمیر پر یونائنٹڈ پروگریسو الائنس (یوپی آئی) کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ اس خط میں انہوں نے شیخ رشید احمد کے سری نگر آنے کی خواہش کے بارے میں بھی اپنے خیلات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ہے۔ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی بھی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ شیخ رشید کا شاید کشمیر میں استقبال نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہندوستانی سفارت خانے نے شیخ رشید کو سری نگر آنے کے لیے درخواست نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ واجپئی نے اپنے خط میں حریت لیڈروں کے پاکستان دورے کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حریت لیڈروں کو بغیر پاسپورٹ کے پاکستان بلانا بس سروس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی نےصدر مشرف کے اس بیان پر بھی نکتہ چینی کی ہے کہ حریت لیڈر ہی کشمیریوں نمائندے ہیں۔ مسٹر واجپئی نے لکھا ہے کہ جس طرح کے بیانات حریت لیڈروں نے پاکستان میں دیے ہیں وہ پاکستان کے حق میں ہیں اور حکومت کو چاہیے وہ اس پورے معاملے پر اپنی پالیسی واضح کرے۔ اس پورے معاملے پرجہاں کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے سیاست ہورہی ہے وہیں منموہن سنگھ حکومت کے لیے ایک چیلنج یہ ہے کہ وہ آئندہ شیخ رشید کے دورے پر کیا پالیسی اختیار کرے۔ ہندوستانی اخبارات کے مطابق حکومت سبکی سے بچنے کے لیے کوئی ایسا فارمولا تلاش کر رہی ہے کہ شیخ رشید بھارت کے زیر انتظام کشمیر نا آئیں۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اس پورے معاملے کو فی الوقت ٹال دینا چاہتی ہے۔ انکے مطابق چونکہ حکومت پاکستان کے ساتھ امن بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے اس لیے وہ اس موضوع پر اور زیادہ اختلافات نہیں چاہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||