BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیخ رشید جہادی کیمپ چلاتے رہے: اسلم بیگ

News image
جہادی کیمپوں سے متعلق موجود تنازعہ یاسین ملک کے ایک مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا
پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزااسلم بیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر شیخ رشید اسلام آباد کے نزدیک ایک جہادی ٹریننگ کیمپ چلاتے رہے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو نوے میں جب وہ پاکستانی فوج کے سربراہ تھے تو انھیں اطلاعات ملی تھیں کہ اسلام آباد سے بیس کلومیٹر دور فتح جنگ روڈ پر شیخ رشید کا ٹریننگ کیمپ تھا جس میں مجاہدین کو تربیت دی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے علم میں جب یہ بات لائی گئی تو انہوں نے یہ ٹریننگ کیمپ بند کروا دیا۔ جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ ان کے اس دعویٰ کی گواہی سابق وزیر اعظم دے سکتے ہیں۔

جنرل اسلم بیگ نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا جس میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ وفاقی وزیر شیخ رشید کو اس معاملے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔

News image
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق شیخ رشید کے بارے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے ان خبروں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کشمیری شدت پسندوں کے لیے مبینہ طور پر تربیتی کیمپ قائم کئے تھے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق یہ اطلاعات پاکستان کے اس دعوے کے برعکس ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین سے کسی طرح کی شدت پسند سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔

دوسری طرف وزیر اطلاعات شیخ رشید نے ان الزامات سے مکمل طور پر انکار کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا’ میں ذمہ داری سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں (کشمیری شدت پسندوں) کی کسی ٹریننگ میں ملوث نہیں رہا اور نہ یہ میری سوچ رہی ہے۔

بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ یہ کیمپ بند ہونے کے باوجود اب بھی ایک فارم ہاؤس کے طور پر فتح جنگ روڈ پر موجود ہے جس کا ’فریڈم ہاؤس’ کے نام سے بورڈ اب بھی روڈ پر لگا ہوا ہے۔

اسلم بیگ کے مطابق شیخ رشید کو یا حکومت پاکستان کو اب یہ بات چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر شیخ رشیدکے لیے جو اس مہینے کے آخر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہاں جانا مناسب نہ ہو گا۔ ان کے مطابق شیخ رشید سے وہاں اس بارے میں سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔

یاسین ملک نے جن کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی تھی بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کا تحریک آزادی میں اہم رول رہا ہے۔’ ہم ان کے گھر میں رہے ہیں، فارم ہاؤس پر رہے ہیں، جب ہمیں پناہ نہ تھی تو ہم کو ان کے گھر اور فارم ہاؤس پر پناہ ملتی تھی‘

تاہم یاسین ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ شیخ رشید کشمیری شدت پسندوں کے لیے ٹریننگ کے اسباب یا مقام فراہم کرتے تھے۔

وفاقی وزیر شیخ رشید کے مبینہ جہادی ٹریننگ کیمپ سے متعلق تنازعہ ایک ایسے وقت کھڑا ہوا ہے جب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی علحیدگی پسند رہنما پاکستان کے دورے پر ہیں اور اطلاعات کے مطابق خود شیخ رشید مظفرآباد سے سرینگر آنے والے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد