’ ہمیں فریق بنایا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے پاکستان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے خط لکھیں جس میں انھیں کہیں کہ وہ مذاکرات میں کشمیریوں کو ایک فریق کی حثیت سے شامل کیا جائے جو ابتک نہیں کیا جارہا۔ سندہ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کی جانب سے دیے گئے عشائیہ میں انہوں نے یہ کہا کہ وہ پہلی مرتبہ پاکستان نہیں آئے بلکہ اس سے قبل بھی یہاں آچکے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما کراچی کے دو روزہ دورے پر یہاں آئے ہوئے ہیں۔ یاسین ملک نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ پاکستاں جہاز کے ذریعے آئے ہیں اس سے قبل وہ بارہ مرتبہ پاکستان آئے ہیں مگر پیدل پہنچے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی گلیوں میں چکر لگائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف کیا گیا تو وہ کشمیری عوام کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں کشمیر کے گاؤں گاؤں گیا ہوں اور پندرہ لاکھ لوگوں سے دستخط لیے ہیں سبھی لوگوں نے یہی مطالبہ کیا ہے کہ کشمیروں کی مرضی کے خلاف کوئی حل ان کے لیے قابِ قبول نہیں ہوگا۔‘ یاسین ملک نے کہا کہ پاکستان میں لوگ ہمارا استقبال کرنا چاہتے ہیں اور ہم سے ملنا چاہتے ہیں مگر سکیورٹی کے اسباب بتا کر ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا۔ اس سے قبل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمیں میر واعظ عمر فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغیر پاسپورٹ کے پاکستان آمد سے ہماری ایک فریق کی حثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر برصغیر میں امن کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||