جے کے ایل ایف کے دھڑے ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود مختار کشمیر کے حامی رہنماؤں امان اللہ خان اور محمد یاسین ملک نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے دونوں دھڑوں کے اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ جے کے ایل ایف 1995 میں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی جب یاسین ملک نے بھارتی فوج کے خلاف یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ جے کے ایل ایف نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 1988 میں علحٰیدگی کے لیے مسلح جہدوجہد کی تحریک شروع کی تھی۔ یاسین ملک ان نو کشمیری علحٰیدگی پسند رہنماؤں میں شامل ہیں جو آج کل حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر ہیں۔ یہ رہنما گذشتہ ہفتے سرینگر مظفرآباد بس سروس کے ذریعے مظفرآباد پہنچے تھے ۔ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں امان اللہ خان اور یاسین ملک کے درمیان ایک گھنٹے کی ملاقات میں جے کے ایل ایف کے اپنے اپنے دھڑوں کو ختم کرکے یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اتحاد کے بارے میں ایک تحریری معاہدے امان اللہ خان اور یاسین ملک نے دستخط کئے۔ اس فیصلے کی تصدیق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان للہ خان اور یاسین ملک کے دھڑے کے رہنما ڈاکڑ فاروق حیدر نے کی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے دونوں دھڑوں کو یکجا کرنے کے فیصلے کے بعد یاسین ملک کے دھڑے کے رہنما ڈاکڑ فاروق حیدر کی سربراہی میں ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تنظیم کے مستقبل کے ڈھانچے کے علاوہ دیگر معاملات طے کرے گی۔ امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تقسیم کے باعث نظریہ خودمختار کشمیر کو نقصان پہنچ رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان رہنماؤں نے جے کے ایل ایف کے دونوں دھڑوں کو متحد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ کشمیر کی مکمل خودمختاری کے لیے موثر اور متحد ہوکر جدوجہد کی جائے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||