’بھارت کے سامنے سب جھک گئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کے بارے میں بدلتے ہوئے انداز فکر کشمیری عوام کی غالب اکثریت کی ترجمانی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کا تعلق کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ان دھڑوں سے ہے جن کا خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر کا فیصلہ یا تواقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کے ذریعہ ہو یا پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے۔ سید علی شاہ گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا بھارت کشمیر کے بارے میں اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے جبکہ دوسرے فریق اس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستان نے پچاس سال سے کشمیریوں کو طاقت کے بل بوتے پر محکوم بنا رکھا ہے اور ان کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہ پاکستان جانے والے کشمیری رہنما وہاں سے کچھ بھی نہیں لا سکتے کیونکہ پاکستان کے پاس کشمیری رہنماؤں کو دینے کے کچھ نہیں ہے۔ علی شاہ گیلانی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے اس نے جنگیں تک لڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر میں حالیہ بیانات کو بات چیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا یہ سب کچھ بھارت کی طاقت کے سامنے جھکنے کی بات چیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی پاکستان جانے والے کشمیری رہنماؤں نے بھارت کی حکومت کے وزیر ایل کے اڈوانی کے ساتھ دو دفعہ مذاکرات کیے تھے لیکن وہ بے سود رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیریوں کو بھارت نے محکوم بنا رکھا ہے اور اس نے کبھی بھی کشمیر کی متنازعہ حثیت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ بھارت نے کشمیر کی متنازعہ حثیت کو مان لیا ہے یک طرفہ بیان ہے جس کی بھارت نے کبھی تائید نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر پر پیش رفت اس وقت مناسب ہو گی جب بھارت کھلے عام یہ تسلیم کر لے کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||