کشمیر: جمیعت کا کمانڈر ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نیم فوجی بارڈر سیکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمیعت المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ جمیعت کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان موصول نہیں ہوا ہے۔ بی ایس ایف کے ترجمان نے کہا کہ منظورالاسلام اپنے ایک اور ساتھی کے ہمراہ گزشتہ رات سرینگر میں ایک ٹیکسی میں سوار تھےاو جب سیکیورٹی فورسز نے انہیں رکنے کے لئے کہا انہوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے جواب میں بی ایس ایف نے بھی گولی چلائی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ منظور الاسلام اس فائرنگ میں مارے گئے لیکن ان کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ منظور الاسلام پندرہ سال قبل جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آننت ناگ ضلع کے ڈِسٹرکٹ کمانڈر تھے۔ بعد میں وہ دس سال جیل میں رہے اور رہائی کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ وہ پھر عسکری کارروائیوں میں شامل ہوگئے اور جمیعت المجاہدین کے کمانڈر بن گئے۔ بعض پولیس افسروں نے بی بی سی کو بتایا کہ منظور الاسلام کو چند روز پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ایک نقلی مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔ لیکن یہ افسر اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے مولانا عمر فاروق نے اس ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||