بھارت کی تشویش، وزیرکی وضاحت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے ان خبروں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کشمیری شدت پسندوں کے لیے مبینہ طور پر تربیتی کیمپ قائم کئے تھے۔تاہم وزیر نے ان الزامات سے مکمل طور پر انکار کیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے اخبارات میں شائع بعض خبروں کے حوالے سے کہا تھا کہ تربیتی کیمپوں کے قیام جیسی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث رہنے والے افراد پاکستان میں اب بھی اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ یاسین ملک نے جن کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی تھی بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کا تحریک آزادی میں اہم رول رہا ہے۔’ ہم ان کے گھر میں رہے ہیں، فارم ہاؤس پر رہے ہیں، جب ہمیں پناہ نہ تھی تو ہم کو ان کے گھر اور فارم ہاؤس پر پناہ ملتی تھی‘ تاہم یاسین ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ شیخ رشید کشمیری شدت پسندوں کے لیے ٹرینگ کے اسباب یا مقام فراہم کرتے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا’ میں ذمہ داری سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں (کشمیری شدت پسندوں) کی کسی ٹرینگ میں ملوث نہیں رہا اور نہ یہ میری سوچ رہی ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس طرح کی بات کی ہے‘۔ پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں لٹے پٹے لوگوں کی مدد کرنا ان کی ایمانی، اخلاقی فرض تھا اور اگر کشمیری ان کے ہاں یا ان کے فارم پر ٹہرے تو انہیں کسی قسم کی کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ شیخ رشید نے کہا کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس سروس صرف کشمیریوں کے لیے ہے اور وہ تیس جون کو وہ میرے وہاں پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔’ لیکن اس تازہ صورتحال سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔‘ وزارت خارجہ نے ان خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو مستقل طور پر تباہ کرنے کے لئے کوئی موثر قدم نہیں اٹھا یا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اطلاعات پاکستان کے اس دعوے کے برعکس ہیں جس میں کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین سے کسی طرح کی شدت پسند سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ہندوستان کی طرف سے یہ ردعمل ایک ایسے وقت آیا ہے جب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی علحیدگی پسند رہنما پاکستان کے دورے پر ہیں اور اطلاعات کے مطابق خود شیخ رشید مظفرآباد س سے سرینگر آنے والے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||