’مسئلہ کشمیر جلد حل ہو جائے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر جلد ہو جائےگا۔ انہوں نے یہ بات آسٹریلیا جاتے ہوئے ملیشیا میں قیام کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے رہنما اس مسئلے کے حل کا ارادہ کر چکے ہیں اور اب جلد ہی نتائج حاصل ہو جائیں گے۔ صدر مشرف نے یہ بیان بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان کے ایک روز بعد دیا جس میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ وہ سیاچن گلیشیر کو ’کوہِ امن‘ بنانا چاہتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ سب سے اہم بات قیادت میں مسئلہ کے حل کی نیت ہوتی ہے جو انہوں نے کہا کہ ان کو نظر آ رہی ہے۔ خبر میں صدر مشرف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس وقت مسئلہ افواج کی از سر نو تعیناتی ہے جو اس وقت آمنے سامنے موجود ہیں۔ خبر کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ اس وقت فوجوں کی از سر نو تعیناتی کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نتیـجہ خیز ہوں گے۔ منموہن سنگھ سیاچن کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن گلیشیر کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔ پاکستان چاہتا کہ دونوں ممالک کی افواج بیس سال پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں۔ بھارت کو اس بات سے اتفاق ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ اس سے پہلے دونوں افواج کی موجودہ پوزیشن کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||