کارگل سکردو سڑک پرمذا کرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کارگل کو بلتستان اور گلگت کے ساتھ ملانے والی کارگل سکردو سڑک کھولنے کامعاملہ پاکستان حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ جو مذاکراتی عمل شروع کر رکھا ہے اس کا مقصد باہمی تنازعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ وزیراعظم من مو ہن سنگھ نے جو کہ کل سے جموں وکشمیر میں لداخ کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ ہفتے کو کارگل میں ایک پن بجلی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر اپنی تقریر میں انھوں نے کارگل کا ذ کر کیا جس کے دوران کارگل کےعام لوگوں کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے خطرے پھر نہ آئیں اس لیے بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے۔ مذاکرات کا مقصد آپس کے جھگڑے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ دریں اثناء بھارتی وزیراعظم اتوار کو سیاچن گلیشیر کا دورہ کریں گے۔ من موہن حال ہی میں بھارت اور پاکستان کےحکام نے سیاچن تنازعے کے حل کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی تھی۔ بات چیت کے دوران ہی ہندوستانی وزیراعظم نے سیاچن کو فوج سے پوری طرح خالی کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر فریقین میں اتفاق ہوجائے تو فوجیں ہٹائی جاسکتی ہیں۔ لیکن اسلام آباد میں ہوئی بات چیت کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔ ساڑھے پانچ ہزار میڑ سے زیادہ اونچی سیا چن کی ان پہاڑیوں پر دونوں جانب کی فوجیں تعینات ہیں۔ یہاں باہمی تصادم میں ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں اور شدید سردی اور خراب موسم کے سبب بھی بہت سے جوان ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں ہی ملک جانتےہیں کہ ان پہاڑیوں پر فوج کی تعیناتی سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔اور ان کی خواہش ہے کہ اسکا تصفیہ ہوجائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||