نقشوں میں پھر تبدیلی کی بات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے کہا ہے انڈو پاک سرحد میں تبدیلی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں کرن تھاپر کو تفصیلی انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ سابق حکومت کی طرح امریکہ کو بھارت کا فطری اتحادی تصور نہیں کرتے۔ کسی غیر ملکی ٹی وی چینل کو پہلے تفصیلی انٹرویو میں نٹور سنگھ نے کہا کہ انڈیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں میں تبدیلیوں کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت سے اپیل کریں گے کہ وہ نئی شروعات کرے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس موقف کو تبدیل کرنے پر غور کرے گی کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔‘ نٹور سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان حکومت سے کہنا چاہیں گے کہ ’ہم اس راستے پر 57 سال سے سفر کر رہے ہیں لیکن اس کے وہ نتائج نہیں نکلے جو آپ چاہتے ہیں یا جو ہم چاہتے ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی اپیل کی شنوائی ہو گی تو انہوں نے کہا کہ وہ بڑی حد تک اس کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کی تعریف کی اور کہا کہ گزشتہ پندرہ دن کے دوران ان کی پاکستانی وزیرِ خارجہ سے چار بار بات ہوئی ہے اور وہ ان کی شخصیت کو پسند کرتے ہیں، ان میں مزاح کو سراہنے کی حسں ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے اس دعوے کے جواب میں کہ ’بھارت نے سرحدوں میں تبدیلی نہ کرنے کا عندیہ دیا‘ بھارتی وزیرِ خارجہ نے یکم جون کو نیم کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ انڈیا کے طرف سے کسی نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ’ کیا آپ اب اس طرح کا اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر مسئلہ حل ہوتا دکھائی دے تو سرحدوں میں کسی طرح کی تبدیلی پر غور کیا جا سکتا ہے؟‘
نٹور سنگھ نے جواب میں کہا کہ ’ٹھیک، یو نو، جب یہاں تک پہنچیں گے تو پل بھی پار کریں گے۔‘ جب نٹور سنگھ سے کہا گیا کہ ’لیکن آپ کے پیشرو اور سابق حکومت کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ ’نقشہ کشی پھر سے نہیں ہو گی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ پل تک پہنچیں گے تو عبور بھی کریں گے۔‘ نٹور سنگھ نے کہا کہ ’ہم نے 1971 میں بھی برصغیر کا نقشہ تبدیل کیا تھا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||