من موہن سنگھ منی پور کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے متعلق متنازعہ اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ پر نظرثانی کی جاۓگی۔ من موہن سنگھ نے اپنے دو روزہ دورے کا آغاز منی پور کی دارالحکومت امپھال میں اپنے خطاب سے کیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس قانون کو ریاست سے ہٹانے سے انکار کیا اور کہا کہ جب ریاست میں تشدد کی کاروائیاں پوری طرح ختم ہوجائیں گی تب قانون بھی پوری طرح ختم کردیاجائے گا۔ من موہن سنگھ نے اپنے خطاب میں منی پور کے علحیدگی پسندوں کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ منی پور وہ اس جذبے کے ساتھ آۓ ہیں کہ ایک نئی زندگی کی شروعات ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد و دہشت گردی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں اس لیے اسے ترک کردینا چاہیۓ۔ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر علیحدگی پسند باغیوں نے عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں باغی تنظیم پیپلز لبریشن آرمی نے کہا ہے کہ منی پور کے عوام کو ہفتے کے روز ہڑتال کرنی چاہیے اس لیے کہ من موہن سنگھ کے دورے سے انہیں کوئی توقع نہیں ہے۔ لبریشن کے سیاسی دھڑے ریولوشنری پیپلز فرنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف تو من موہن سنگھ کشمیر سے فوجیں واپس بلا رہے ہیں لیکن دوسری طرف منی پور میں مذید فوجی بھجوا رہے ہیں۔ منی پور میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مقامی عورتوں کی ہلاکتوں اور عصمت دری کے واقعات کے بعد جولائی سے انتشار کی صورتحال سے دوچار ہے۔ تب سے حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ باغیوں سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جانے والا متنازع قانون واپس لے۔ اس قانون کے تحت فوج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مشتبہ افراد کو گولی مار سکتی ہے۔ وزیراعظم من موہن سنگھ اس دورے کے دوران ایک نئی ریلوے لائن کی بنیاد رکھیں گے اور منی پور کے وزیر اعلیٰ اوکرم ایبودی سنگھ کی توقع ہے کہ من موہن سنگھ ریاست کے لیے ایک اقتصادی پیکج کا بھی اعلان کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||