BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 August, 2004, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
من موہن سنگھ کا خطاب
 خطاب سے پہلے من موہن سنگھ کو سلامی دی گئی
خطاب سے پہلے من موہن سنگھ کو سلامی دی گئی
بھارت کے یوم آزادی پر قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی شدت پسند تنظیموں سے بات چیت کے لیے تیار ہے جو تشدد کی راہ چھوڑنا چاہتی ہوں۔

نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ سے اپنی پہلی تقریر میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت شدت پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی لیکن ایسے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار ہے جو تشدد کی راہ کو چھوڑ کر پر امن طریقے سے اپنی بات منوانا چاہتے ہوں۔

وزیراعظم کی حیثیت سے یوم آزادی پر من موہن سنگھ کا یہ پہلا خطاب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیر ویسی ہی ہوگی جیسا اس کے شہری ہونگے۔ من موہن سنگھ کو ملکی سیاست میں ایماندار سیاست دان کی حیثیت حاصل ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں انسانیت کے پھلنے پھولنے اور ہر شخص کے تعلیم یافتہ ہونی کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے زراعت، پانی، صحت، روزگار، اور شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر حکومتی پالیسیوں کو ترجیح دینے کی بات کی۔

تالیوں کی گونج میں من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ امن چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے شدت پسندی کی وجہ سے امن کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مخلص ہے اور وہ اپنی مخلصانہ کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن قائم کرنے کے لیے باہمی اعتماد پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند جماعت آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر عام ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس ہر سال بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کرتی ہے تاکہ کشمیر پر ”بھارتی تسلط” کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں سر فہرست تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اور افراط میں پچھلے تین سالوں میں ریکارڈ اضافے کے علاوہ حالیہ دنوں میں حکومتی وزیرں کے خلاف عدالتوں سے وارنٹ جاری ہونا ہیں۔

موسم برسات میں سیلابوں سے ہونے والی تباہی نے بھی بھارت کی نئی حکومت کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔

یہ گزشتہ نو سالوں میں پہلی بار تھا جب لال قلعے سے کانگریس کا وزیراعظم ملک سے خطاب کررہا تھا۔

ادھر صدرِجمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام نےگزشتہ شام قوم سے اپنے خطاب میں ملک کو تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے ملک کی جی ڈی پی کا چھ۔سات فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہئے۔

عبدالکلام نے نجی کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کریں اور ملک کے بعض علاقوں کو اس مقصد کے لئے اپنالیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر ملکی پالیسی کی سمت سے اطمینان کا اظہار کیا اور اقتدار کی پرامن تبدیلی کو سراہا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد