BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
من موہن سنگھ حکومت کے سو دن

موہن سنگھ
من موہن سنگھ اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی
ہندوستان میں کانگریس کے زیر قیادت یو پی اے یعنی متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی رہنمائی میں اتوار کے روز سو دن مکمل کر لیے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے گزشتہ بائیس مئی کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ نئی حکومت کے ابتدائی سو دن زیادہ آسان نہیں رہے ہیں کچھ روز قبل خود وزیراعظم نے اشارہ دیا تھا کہ یو پی اے حکومت کے ابتدائی دن مشکل ترین مرحلے سے گزرے ہیں۔

من مو ہن سنگھ نے اس مدت میں بہت سے اہم مسائل کے حل اور مشکل سوالات کے جواب کے تلاش میں ہی کھوئے رہےاور ان کی حکومت شروع ہی سے تنازعات کا شکار رہی۔

کابینہ میں ملزمانہ ریکارڈ رکھنے والے وزراء کی رکنیت، کئی علاقوں میں خشک سالی تو بہت سی جگہوں پر سیلاب کی صورت حال، افراط زر کی شرحوں میں زبردست اضافہ، پانی کی تقسیم کا مسئلہ اور عراق میں ہندوستانی شہریوں کو یرغمال بنانے جیسے کئی اہم مسائل سے مرکزی حکومت یکے بعد دیگرے نبرد آزما رہی۔

ابتداء میں یو پی اے حکومت حلیفوں کے مابین وزارتوں کی تقسیم پر اندورنی خلفشار کا شکارتھی لیکن بعد میں اپوزیشن نے ملزمانہ ریکارڈ رکھنے والے وزیروں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کیا۔

تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم ہنگامے کے سبب اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف تک نہ کرا سکے۔ ہنگامہ آرئی کا سلسلہ بجٹ اجلاس تک جاری رہا اور نتیجتاً ریل بجٹ اور عام بجٹ حزب اختلاف کے واک آوٹ کے ساتھ منظور کیے گئے۔

مسٹر سنگھ کو صرف اپوزیشن کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اقتصادی معاملات پر حکومت میں بائیں بازو کی حلیف جماعتیں بھی ان کی پالیسی پر کڑی نکتہ چینی کرتی رہیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود وزیر اعظم من موہن سنگھ سبھی مسائل سے بخوبی نمٹتے بھی رہے۔ خشک سالی پر قابو پانے کے لیے انہوں نے منصوبے تیار کرنے کو کہا تو سیلاب سے نمٹنے کے لیے ٹاسک فورس بنائی اور افراط زر پر قابو پانے کے لیے کئی اہم اقدامات بھی کیے ۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعظم نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے لیکن منی پور میں جہاں خود کانگریس کی حکوت ہے، وہ حالات پر قابو پانے نا کام رہے۔ دوسری طرف کشمیر کے رہنماؤں سے بات چیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اسے بھی ابھی تک آگے نہیں بڑھایا جا سکا ہے۔

ابتداء میں ان شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا جارہا تھا کہ چونکہ من موہن سنگھ ایک شاطر سیاست داں نہیں ہیں اس لیے شاید وہ وزیراعظم کی حیثیت سے مقبول نا ہوں لیکن انہوں نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ وہ مخلوط حکومت چلانے کے اہل ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت سے مقبول بھی ہوئے ہیں۔

اقتصادی پالیسی پر انہوں نے بائیں محاذ کا دباؤ بھی قبول نہیں کیا ہے۔ گرچہ ان کی حکومت پریشانیوں کے دور سے گزرتی رہی ہے لیکن اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد