بھارت:عوامی اصلاحات کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت لوگوں کی توقعات کے مطابق عوامی اداروں میں اصلاحات کرے گی۔ من موہن سنگھ نے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ ماضی میں حکومتیں لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے پارلیمان میں ان کی تقریر میں رکاوٹیں ڈالنےکے بعد منموہن سنگھ نے ٹیلی ویژن پر خطاب کیا۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ ایک طرف بہت سے لوگ عالمگیریت اور اقتصادی اصلاحات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ’ہمارے لاکھوں شہریوں کو غربت، افلاس، بیماری اور بھوک کا سامنا ہے‘۔ بھارتی وزیر اعظم نے عورتوں اور مردوں کے حالات میں فرق اور انتہائی غربت اور پسماندگی میں زندگی گزارنے والے افراد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال کسی بھی سطح پر حکومتی ادارے ان مسائل سے نمٹنے اور لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے عوامی اداروں کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت بھارت کے دیہاتیوں کو ’نئی ڈیل‘ دینے کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو حالیہ برسوں میں وہ عزت نہیں ملی جس کا وہ حقدار ہے اور اس صورتحال کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت کو عالمی معیشت سے ہم پلہ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||