دورہ ختم، کشمیری رہنما واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے علیحدگی پسند معتدل کشمیری رہنما جمعرات کو اپنا دورہ مکمل کر کے بھارت روانہ ہوگئے۔ اس دورے میں کشمیری رہنماؤں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اعلیٰ حکام اور وہاں کی عوام سے بھی کئی ملاقاتیں کیں۔ تاہم کشمیری رہنماؤں کے اس دورے میں اس وقت ایک نزع پیدا ہوگئی جب کشمیری رہنما یسین ملک نے پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید کے حوالے سے یہ بیان دیا کہ وہ کشمیریوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ بعض اخباروں نے یسین ملک کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ شیخ رشید احمد نے کشمیری شدت پسندوں کے لیے جہادی کیمپوں کا اہتمام کیا تھا۔ تاہم شیخ رشید اور پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پر زور انداز میں اس کی تردید کی تھی۔ شیخ رشید احمد نے جو خود بھی کشمیری ہیں کہا تھا کہ انہوں نے کشمیریوں کو صرف پناہ دی تھی۔ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے بی بی سی کی اردو سروس کو بتایا کہ شیخ رشیداحمد جہادی تربیت کے کیمپ چلاتے رہے اور انیس سو اکیانوے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم کے حکم پر ان کیمپوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے آئے ہوئے رہنماؤں نے پاکستان علاقے کو چکوٹھی کے مقام سے لائن آف کنٹرول عبور کی۔ انہیں وہاں تک ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا۔ انہیں الوداع کہنے کے لیے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان بھی ہیلی کاپٹر میں چکوٹھی تک آئے تھے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بھارت نے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کو ایک نمائندہ گروپ کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ بدھ کو علیحدگی پسند رہنماؤں نے کہا تھا انہیں امید ہے کہ بھارتی حکومت مستقبل میں بھی اسی طرح کا دانش مندانہ رویہ اختیار کرے گی۔ حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے پاکستان کے اس دورے کی شدت پسند اور سخت گیر افراد نے مخالفت کی تھی۔ شیخ رشید احمد تیس جون کو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر جانا چاہتے ہیں اور اس سفر کے لیے انہوں نے درخواست بھی دی ہے تاہم جہادی کیمپوں کے حوالے سے شروع ہونے والی حالیہ نزع سے خدشات ہیں کہ کہیں پاکستانی وزیرِ اطلاعات کا یہ دورہ کھٹائی میں نہ پڑ جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||