امن کی سرحدیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کےدرمیان بدلتے ہوئے رشتوں کا اثر اب رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ریاستی حکومت نے جموں کے سچیت گڑھ کو واہگہ کے طرز پر ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا پروگرام وضع کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت گلاب گڑھ نئی بستی گاؤں کو ایک سیاحتی گاؤں بنانے کا پروگرام ہے ۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں جموں سیالکوٹ روڈ دونوں سرحدوں پر بند کر دی گئی ہے۔ جموں کشمیر محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر اجے کھجو ریہ نے بتایا کہ اس منصوبے کے لئے ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں مدد کریں گی اور اندازے کے مطابق اس پر تقریباً سوا کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان سے بھی بات چیت کی گئی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سرحد کے دوسرے جانب بھی اسی طرز کا مرکز بنایا جائے گا۔
’سرحدی علاقوں میں باہر سے آنے والے لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہی سرحد لوگوں کے لئے ایک سیاحتی مقام بننے جا رہی ہے۔‘ مسٹر کھجوریہ نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف اس علاقے کی ترقی ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے رشتوں کو بھی عکاسی ہوگی ۔ ’جہاں کبھی خوف اور موت کے بادل منڈلاتے تھے وہاں پر اب خوشیوں کے میلے لگیں گے۔‘ اس خبر سے سرحد پر آباد باشندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نئی بستی گاؤں کے ایک کسان شام لال نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی دشمنی نے ہمارے گھروں کو اجاڑ دیا لیکن اب لگتا ہے کا امن کی ہوا پھر سے اس علاقے میں خوشیاں لوٹائے گی ۔ اس علاقے کے لوگ جموں سیالکوٹ روڈ کے دوبارہ کھلنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||