BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 June, 2005, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کی سرحدیں

News image
سچیت گڑھ سرحدی علاقے کو واہگہ کے طرز پر ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا پروگرام وضع کیا گیا ہے
ہندوستان اور پاکستان کےدرمیان بدلتے ہوئے رشتوں کا اثر اب رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔

ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ریاستی حکومت نے جموں کے سچیت گڑھ کو واہگہ کے طرز پر ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا پروگرام وضع کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت گلاب گڑھ نئی بستی گاؤں کو ایک سیاحتی گاؤں بنانے کا پروگرام ہے ۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں جموں سیالکوٹ روڈ دونوں سرحدوں پر بند کر دی گئی ہے۔

جموں کشمیر محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر اجے کھجو ریہ نے بتایا کہ اس منصوبے کے لئے ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں مدد کریں گی اور اندازے کے مطابق اس پر تقریباً سوا کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔

اس سلسلے میں پاکستان سے بھی بات چیت کی گئی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سرحد کے دوسرے جانب بھی اسی طرز کا مرکز بنایا جائے گا۔

News image
پہلی بار جموں کشمیر سرحد پر عام لوگوں کو جانے کی اجازت ملے گی۔
مسٹر کجھوریہ کے مطابق نئی بستی گاؤں میں ایک چھوٹا سا اسٹیڈیم اور ایک سیاحتی نظارہ مرکز تعمیر کیا جائےگا۔ پہلی بار جموں کشمیر سرحد پر عام لوگوں کو جانے کی اجازت ملے گی۔

’سرحدی علاقوں میں باہر سے آنے والے لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہی سرحد لوگوں کے لئے ایک سیاحتی مقام بننے جا رہی ہے۔‘

مسٹر کھجوریہ نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف اس علاقے کی ترقی ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے رشتوں کو بھی عکاسی ہوگی ۔ ’جہاں کبھی خوف اور موت کے بادل منڈلاتے تھے وہاں پر اب خوشیوں کے میلے لگیں گے۔‘

اس خبر سے سرحد پر آباد باشندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نئی بستی گاؤں کے ایک کسان شام لال نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی دشمنی نے ہمارے گھروں کو اجاڑ دیا لیکن اب لگتا ہے کا امن کی ہوا پھر سے اس علاقے میں خوشیاں لوٹائے گی ۔

اس علاقے کے لوگ جموں سیالکوٹ روڈ کے دوبارہ کھلنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد