BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 May, 2005, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں سیاحوں کی واپسی

ڈل جھیل
شکاروں سے بھری ہوئی ڈل جھیل
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں اور بھارتی حفاظتی دستوں کے درمیان جاری مسلح جدو جہد کی وجہ سے برسوں تک کشمیر سے دور رہنے والے سیاح اب واپس وادی کا رخ کر رہے ہیں۔

کئی لوگ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہونے اور امن کی خبروں کو سن کر وادی کشمیر کی سیر کے لئے جانے لگے ہیں۔

سرینگر میں گزشتہ دس سالوں سے جو خوبصورت ڈل جھیل سنسان پڑی تھی وہاں ایک بار پھر سیاح دکھائی دینے لگے ہیں۔

پہاڑوں سے اتر کر آنے والے تازہ پانی کی اس جھیل میں سجے ہوئے شکاروں میں سیاح لطف اندوز ہوتےنظر آنے لگے ہیں۔

ایک شکارے والا 35 سالہ محمد شفیع اس تبدیلی پر اپنی خوشی کو چھپا نہیں پا رہا تھا

شفیع نے کہا’ اللہ کے کرم سے اس سال بہت تعداد میں سیاحوں نے وادی کا رخ کیا ہے اور ہمارے پاس کافی کام ہے کاش ایسا ہی چلتا رہے‘۔

گزشتہ کئی برسوں سے شفیع قالینوں کی بنائی اور دوسرے کاموں سے بمشکل دن بھر میں 80 روپئے تک کما رہا تھا۔

لیکن شفیع کے مطابق اب وہ دن بھر میں 400 سے 600 روپئے تک کما رہا ہے۔

کئی سیاح پہلی مرتبہ کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔

ممبئی کے عبدل طعیب جی نے کہا ’جب مجھے پتہ لگا کہ پاکستانی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے درمیان دوستی ہو گئی ہے میں پہلی فرصت میں اس جنت کو دیکھنے چلا آیا‘۔

مسٹر طعیب کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے بارے میں ان کے ذہن میں ایک خوفناک تصور تھا کہ وہاں ہر طرف بندوقیں اٹھائے شدت پسند نظر آئیں گے۔
لیکن اب کشمیر کے بارے میں ان کا تصور بالکل بدل گیا ہے ’یہ بہت ہی خوبصورت شہر ہے‘۔

لیکن مہاراشٹر سے آنے والی میرا کہتی ہیں کہ وہ ہر آدھے کلو میٹر پر مسلح بھارتی فوجیوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیاحت کی صنعت پچھلے سال سے بہتر ہونی شروع ہوگئی تھی اس سال اس میں مزید بہتری آنے کی امید ہے۔

تاہم غیر ملکی سیاح اب بھی وادی جانے سے کترا رہے ہیں۔

1989میں عسکریت پسندوں کے سرگرم ہونے سے پہلے تک بھارت آنے والے غیر ملکی سیاحوں میں سے 8 سے 10 فیصد کشمیر ضرور جاتے تھے۔

لیکن اب یہ تعدا دایک فیصد رہ گئی ہے۔

ریاستی ڈائریکٹر جنرل برائے سیاحت محمد سلیم بیگ کا کہنا ہے کہ بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کی سالانہ تعداد تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے اس حساب سے کم از کم تین لاکھ غیر ملکی سیاح کشمیر آنے چاہیں۔

مسٹر بیگ کا کہنا ہے کہ اگر سیاحوں کی آمد کا یہی سلسلہ رہا تو ممکن ہے کہ سرمایہ کار وادی میں مزید ہوٹل بنانے پر غور کریں گے۔

سیاحوں سے بھرا کشمیر
بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کر رہے ہیں

مسٹر بیگ کا کہنا ہےکہ گزشتہ برس ہمارے یہاں20 ہزار غیر ملکی سیاح آئے تھے۔ابھی بھارت آنے والے سیاحوں میں جنوب مشرقی ایشیا کے لوگ ہیں۔

بھارتی حکومت امریکی اور یورپی ممالک کو اس بات کے لئے رضامند نہیں کر سکی کہ لوگوں سے کشمیر نہ جانے کی اپنی اپیل واپس لے لیں۔

افسران کے مطابق کشمیر میں سفر کی نا مناسب سہولیات کی وجہ سے بھی سیاحت کونقصان پہنچ رہا ہے۔

مسٹر بیگ کا کہنا ہے’اگر آپ کو کشمیر جانا ہے تو ٹکٹوں کے لئے کئی ہفتوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے‘۔

ممبئی سے جموں کے درمیان ہفتے میں صرف چار دن ہی ٹرین چلتی ہے۔

لیکن باوجود ان تمام دشواریوں کے کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈل جھیل کے نزدیک کے علاقے میں رہنے والے عام لوگوں نے اپنے گھروں کو گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کر دیا ہے۔

اگلے ماہ کشمیر میں سیاحوں کی تعدا میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ اگلے ماہ ہندؤں کی مشہور سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد