BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اور بھارت کی پیش رفت

حالات میں بہتری
بھارت اور پاکستان تین جنگیں لڑ چکے ہیں
پچھلے ایک سال میں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات میں بہتری ہوئی ہے۔ حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے خارجی سیکرٹریوں کے درمیان دلی میں ہونے والی بات چیت حالات کے معمول پر آنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات کافی حد تک کامیاب رہی ہے اور بھارت میں نئی حکومت کے آنے سے بات چیت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے۔

سی راجاموہن کا، جو کہ خارجی پالیسی کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ دلی کی جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پروفسر بھی ہیں، کہنا ہے کہ یہ بات چیت حالات کو معمول پر لانے کی طرف ایک اہم کوشش تھی۔

انہوں نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور نیوکلیائی اور انسانی مسائل کے حوالے سے رشتوں میں بہتری ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد انہیں دیگر ضروری مسائل کی طرف توجہ دینی ہو گی۔

جہاں تک مسئلہ کشمیر کا سوال ہے تو اس کا دارومدار شاید اس بات پر ہوگا کہ بھارت اور پاکستان موجودہ ایل او سی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

بھارت 1972 کے شملہ سمجھوتے کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت ایل او سی قائم کی گئی تھی۔ مگر پاکستان کا کہنا ہے کہ ایل او سی کو دونوں ممالک کے درمیان مستقل سرحد کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

بات چیت کے بعد دیے گئے ایک مشترکہ بیان کے متابق دونوں ممالک نے شملہ سمجھوتے کو نافذ کرنے کے اپنے ارادوں کا اعادہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو شملہ سمجھوتے پر اپنے مواقف مزید صفائی سے بیان کرنے چاہئیں۔

پاکستان کے سابقہ خارجی سیکرٹری تنویر احمد کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ہی ممالک مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ بات چیت سے دلی اور اسلام آباد کے رشتہ میں آئی پختگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات چیت کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد پسندوں نے ایک گاؤں میں دس لوگوں کو مار ڈالا۔ مگر اس کا اثر بات چیت پر نہیں پڑا۔ تنویر احمد خان کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے بھروسے کی علامت ہے۔

دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان چھ اہم مسائل پر اگلے کچھ مہینوں میں بات چیت ہو نے والی ہے۔ اس میں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ بھی شامل ہے۔ بات چیت جولائی کے تیسرے ہفتے میں شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔

اگست میں دونوں خارجی سیکرٹری حالات کا جائزہ لینے کے لیے پھر ملاقات کریں گے اور اگست میں ہونے والی خارجی وزیروں کی ملاقات کی تیاری کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد