جموں و کشمیر میں ٹرین چلے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم منوہن سنگھ نے ہندوستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے دوشہروں کے دومیان ایک نئی ریل کا افتتاح کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نےکہاہے کہ ریل رابطےسے کشمیرکے ملک کے باقی حصے سے رشتے مزید مضبوط ہونگےاور ودی میں ترقی کی راہیں بھی ہموار ہونگی۔ نئی ریل کشمیر کی سرمائی دارلحکومت جموں اور شمالی ضلع ادھم پور کے درمیان چلے گی۔ چون کلو میٹر کی مسافت کے اس ریل راستے میں ایک سو اٹھاون پل ہیں اور بیس پہاڑوں کے درمیان سرنگوں سے ہوکر اسکا راستہ ہے۔ حکومت نے اس کی تعمیر میں پانچ سو پندرہ کروڑ روپیے خرچ کیے ہیں۔ ریل کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ یہ قدم کشمیرمیں امن اور خوشحالی کے لیے انکی حکومت کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا '' اس راستے پر ریل کے افتتاح سے مجھے بہت خوشی ہے۔ اس منصوبے کو محترمہ اندراگاندھی نے سوچا تھا۔ اس قدم سے کشمیر کا ملک کے دوسرے حصے سے رابطہ اور مضبوط ہوگااور اس سے علاقے میں ترقی کی راہیں بھی ہموار ہونگی ''۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ریل لنک کو سن دو ہزار سات تک مزید بڑھاکر وادی کشمیر تک کردیاجائیگا۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے ملک کے باقی حصے سے جڑنے کے بعد علاقے میں خوشحالی آئیگی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے اس کے لیے رقم مہیا کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن ودای تک ریل ٹریک بچھانا آسان نہیں کیونکہ راستہ پہاڑیوں اور گھاٹیوں سے پر ہے اور کئی جگہ تو بڑے بڑے ٹنل بنانے پڑیں گے۔ نئے ریل لنک کے لیے سخت حفاظتی بندوبست کیے گیے ہیں۔انتہا پسندوں کے حملے سے بچنےاور ریل ٹریک کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ ٹرین کے ڈبوں کی جانچ کے لیے خصوصی کتوں کی مدد لی جائیگی۔ اس ریل لنک کی شروعات سے جموں سے کشمیر کی جانب ریل رابطے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور دوسری کی تکمیل کے لیے تیزی سے کوششیں جاری ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||