BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحدپار پاکستانی لباس کی مقبولیت

پاکستانی کپڑا دِلی میں
پاکستانی ڈراموں اور ویر زارا جیسی فلموں نے بھی پاکستانی لباس کی مقبولیت میں مدد کی ہے
ہندوستانی دارالحکومت دِلّی میں پاکستانی لباس اور کپڑوں کی مقبولیت روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔

پاکستانی کپڑے، انکی کڑھائی اور وہاں کے شلوار قمیض ان دنوں دِلّی کے تقریباً سبھی مشہور بازاروں میں نظر آرہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی پاکستانی کپڑے ہندوستان میں مقبول تھے لیکن دونوں ملکوں کے رشتوں میں بہتری کے بعد ان کپڑوں کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستانی ملبوسات میں اگر ساڑھی پوری دنیا میں ہندوستان کو ایک خصوصی پہچان دیتی ہے تو وہیں دوسری جانب پاکستان کے مختلف انداز کے شلوار کرتے اور ان کی کشیدہ کاری انہیں منفرد بنا دیتی ہے۔

کپڑوں کے شوخ رنگ ، ہاتھ کی کڑھائی اور خصوصی انداز لباس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔

News image
تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر پاکستانی فیشن ڈیزائنر فرناز احمد نے پاکستانی کڑھائی والے کپڑوں کا دِلّی میں ایک شوروم کھولا ہے۔ ہندوستانی خریداروں کی پسند کے متعلق فرناز نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے خریداروں کی پسند میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’دونوں ممالک کے موسم اور انکی تہذیب ایک ہے اس لئے کپڑے ، رنگ اورانکی کڑھائی کے لئے لوگوں کی پسند میں بھی زیادہ فرق نہیں ہے، فرق صرف ان کے سلائی کے ڈھنگ میں ہوتا ہے‘۔

فرناز احمد نے بتایا کہ پاکستان ہی کی طرح ہندوستان میں بھی گرمیوں میں ’سوِس وائل‘ اور ’شیفان‘ پسند کیا جاتا ہے اور سردیوں کے موسم میں لوگ کھدّر پہننا پسند کرتے ہیں۔

News image
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مقابلہ میں ہندستانی فیشن کی دنیا کافی بڑی ہے اور جس طرح پاکستانی شلوار کو سلنے کا ایک خصوصی انداز ہے اسی طرح ہندوستانی ساڑھیوں اور بلاؤز کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

ہندستانی لباس میں لکھنؤ چکنکاری اور بنگال کا کانتھا جیسی کشیدہ کاری جو پاکستان میں نہیں ملتی فرناز کے پسندیدہ کپڑے ہیں۔

پاکستانی کپڑوں کی مقبولیت کے بارے میں مشہور ہندوستانی فیشن ڈیزائنر رینا ڈھا کا کہتی ہیں کہ آنے والے وقت میں ہندستان میں پاکستانی فیشن کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں زیادہ تر لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں اسی وجہ سے وہاں کی فیشن انڈسٹری نے ان میں مختلف تجربات کیے ہیں جس کے سبب پاکستانی شلوار قمیض کی کڑھائی انکی سلائی اور انداز میں مختلف قسمیں دیکھنے کو ملتی ہیں‘۔

تتیش کلکتہ سے دلی آئی ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستانی سوٹوں کاانداز کافی پسند آیا۔ ان کا کہنا تھا اس طرح کے لباس کلکتہ میں بھی بہت مقبول ہوں گے۔

دِلّی کےمشہور بازار لاجپت نگر میں پاکستانی سوٹوں کی کئی مخصوص دکانیں ہیں۔اس میں سے ایک دکان کے مالک سنی کا کہنا ہے کہ ’یوں تو پاکستانی سوٹ گزشتہ چھ سات برسوں سے بازار میں موجود ہیں لیکن دونوں ممالک کے رشتوں میں بہتری کے بعد وہاں سے کپڑے یہاں لانے میں کافی آسانی ہو گئی ہے‘۔

’ویر زارا‘ جسی بالی ووڈ فلموں اور پاکستانی سیریلز نے بھی پاکستانی لباس کی مقبولیت میں مدد کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد