بھارت سے کئی اشیاء کی درآمد منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، ڈاکٹر سلمان شاہ نے منگل کے روز پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ حکومت نے گوشت/ مویشی، پیاز، آلو، ٹماٹر اور لہسن بھارت اور چین سے ’ڈیوٹی فری، درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سلمان شاہ نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں ملک کے اندر کھانے پینی کی اشیاء کی قیمتوں پر ضابطہ رکھنے اور ضروری اشیاء کی فراہمی اور دستیابی یقینی بنانے کے لئے قائم کمیٹی نے وزیراعظم شوکت عزیز کو گیارہ اشیاء کی نشاندہی کی تھی لیکن ان میں سے پانچ چیزوں کی وزیراعظم نے منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اشیاء بھارت اور چین میں سے جہاں بھی سستی ہوں گی وہاں سے منگوائی جاسکیں گی۔ تاہم ان کے مطابق ضروری اشیاء درآمد کرنے کا کام نجی شعبہ کرے گا اور حکومت انہیں مکمل سہولیات فراہم کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین سے یہ ضروری اشیاء منگوانے پر تاحکم ثانی ٹیکس کی چھوٹ برقرار رہے گی اور جیسے ہی پاکستان میں ان اشیاء کی وافر مقدار میں فراہمی یقینی ہوگی تو حکومت اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرے گی۔ سیاسی مبصرین حکومت کے اس فیصلے کو بھارت کے ساتھ جاری مزاکرات کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں کیونکہ عام استعمال کی اشیاء بھارت سے منگوانے کو جہاں چند حلقوں میں معیوب سمجھا جاتا رہا ہے وہاں حکومت بھی اس طرح کی تجارت پر پس پردہ تحفظات ظاہر کرتی رہی ہے۔ سلمان شاہ کے مطابق وزیراعظم نے ملک میں چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نوٹس لیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے ذریعے ان اشیاء کی مطلوبہ تعداد میں مارکیٹ تک رسد یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کا تمام پڑوسی ممالک کی قیمتوں سے تقابلی جائزہ لینے کے بعد بھارت اور چین سے ان اشیاء کی درآمدگی کا فیصلہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||