BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضائی رابطے بڑھانے کا معاہدہ
اوپن اسکائی پالیسی سے فضائی رابطے مستحکم ہوں گے
اوپن اسکائی پالیسی سے فضائی رابطے مستحکم ہوں گے
امریکی صدر جارج بش نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو فون کرکے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے تیار کردہ مسافر جہاز خریدنے کی درخواست کی ہے۔

اس بات کا انکشاف امریکی مواصلات کی سیکریٹری نارمن وائے مانیتا نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جارج بش نے بھارتی وزیر اعظم کو کچھ عرصہ قبل فون کر کے کہا تھا کہ بھارتی فضائی کمپنی کے لیے طیارے خریدتے وقت امریکی بوئنگ طیاروں پر بھی غور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت طیاروں کی خریداری میں بوئنگ طیاروں پر بھی غور کرئے گا۔

دریں اثناء بھارت اور امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان فضائی سفر میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک نئِے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت بھارت کے کسی بھی شہر سے امریکہ کے کسی بھی شہر تک براہ راست پروازیں شروع کی جا سکیں گی۔

نئی ’اوپن اسکائی‘ پالیسی کئی دہائی پرانے معاہدے کی جگہ لے گی۔ پرانی پالیسی کے تحت بھارت کے کچھ مخصوص شہروں سے ہی امریکہ کے چند بڑے شہروں تک پراوزیں چل رہی تھیں۔

نئی ’اوپن اسکائی‘ پالیسی کے لاگو ہونے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان فضائی سفر کے ٹکٹ کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور خاص طور پر کمپیوٹر ’ آؤٹ سورسنگ‘ کے شعبے کے فروغ میں مدد ملے گی۔

بدھ کے روز ہونے والے ایک اعلان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت برطانوی فضائی کمپنیاں بھارت کے لیےاپنی پروازیں دگنی کر رہی ہیں۔

اس وقت صرف تین فضائی کمپنیاں ، بھارت کی قومی فضائی کمپنی ائیر انڈیا اور امریکی فضائی کمپنیاں ’ڈیلٹا‘ اور ’نارتھ ویسٹ‘ بھارت کے لیے براہ راست پروازیں مہیا کرتی ہیں جن میں جہاز بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

فی الوقت بھارت کے دارالحکومت نئی دلی اور تجارتی مرکز ممبئی سے بین الاقوامی پروازوں کی سہولت ہے جبکہ مدراس اور بنگلور سے کوئی بین الاقوامی پروازیں نہیں چل رہیں۔

سان فرانسسکو بے کے علاقے سے جہاں پر زیادہ تر امریکی سافٹ ویئر کی کمپنیاں قائم ہیں بنگلور تک براہراست پرواز میں تیس گھنٹے لگیں گے۔

ڈیلٹا ائیر لائن نے پہلے ہی نیویارک سے مدارس تک براستہ پیرس پرواز شروع کرنے کی اجازت مانگی ہے جبکہ نارتھ ویسٹ منی یا پولس اور بنگلور کے درمیان ایمسٹرڈیم کے راستے پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

امریکی کی ایک اور فضائی کمپنی کانٹیننٹل ائیر لائن نیو آرک اور دلی کے درمیان اکتوبر سے براہراست پرواز شروع کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس براہ راست پرواز کے شروع کیے جانے سے دونوں شہروں کے درمیان فضائی سفر میں ڈھائی گھنٹے کی کمی ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد