بھارتی برآمدات، اسی ارب ڈالر پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی بڑھتی ہوئی معیشت کے ساتھ ہی اس کی برآمدات اسی ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ملکی برآمدات میں چوبیس فیصد اضافہ ایک ریکارڈ ہے۔ درآمدات میں زبردست اضافے کے باوجود بھارت کا تجارتی خصارہ 25 ارب ڈالر ہے جس کی بڑی وجہ اس کی تیل کی درآمدات ہیں۔ بھارت اپنی ضروریات کا ستر فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ تیل کی ضروریات میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سے بھارت کے تجارتی خصارے پر اثر پڑا ہے۔ اقتصادی ماہرین کو خدشہ ہے کہ عالمی مندی کے رجحان کا اثر بھارت بھارت کی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف بانوے ارب ڈالررکھا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے درآمدات میں چونتیس فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر ایک سو پانچ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان میں انتیس ارب ڈالر کا تیل اور تیل کی دیگر مصنوعات کی برآمدات پر خرچ کیے گئے۔ بھارت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی تجارت میں بھارت کی شرح بڑہانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس وقت صرف عالمی تجارت کا ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق تجارت کی شرح بڑھانے سے بھارت میں لاکھ لوگوں کو نوکریاں فراہم کی جاسکیں گی۔ بھارت کے وزیر تجارت کمال ناتھ نے کہا کہ ڈالر کی گرتی ہوئی اور روپے کی بڑھتی ہوئی قیمت اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بھارت کی معیشت میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھارت کی مصنوعات کی مانگ میں اضافے کے علاوہ چین سے بھی سٹیل کے آڈر ملے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||