لیزر، فاصلے کم کرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے ملک میں وائس اور ڈیٹا نیٹ ورک میں پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے کے لیے لیزر کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹاٹا ٹیلی سروسز نامی کمپنی لیزر کو اپنے کسٹمر سروسز دفاتر اور نیٹ ورک کے درمیان رابطے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیزر نیٹ ورک چار کلومیٹر کے فاصلے تک کام کرتا ہے اور کیبل کنکشن کی نسبت تیزی سے قائم کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مذکورہ کمپنی نے سات سو سے زیادہ مقامات پر اس نظام کو قائم کیا ہے۔ ٹاٹا ٹیلی سروسز کے نائب صدر آر سری دھارن کا کہنا تھا کہ ’ ان جغرافیائی حالات میں زمین کھود کر پائپ بچھانا ایک مشکل کام ہے۔ٹریفک کا دباؤ اور زمین کی ساخت کھدائی کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کچھ علاقوں میں زمین کھودنے اور تار بچھانے کی اجازت ملنا ناممکن ہے جبکہ چھتوں پر سے نیٹ ورکنگ آلات کو گزارنے کی اجازت آسانی سے مل جاتی ہے‘۔ ان لیزر آلات کی مدد سے ڈیٹا کو1.25 گیگا بائٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے بھیجا جا سکتا ہے جو کہ ایک عام انٹرنیٹ کنشن کی رفتار سے دو ہزار گنا زیادہ ہے۔ یہ لیزر کنکشن بھارتی حالات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ بھارت میں نہ ہی زیادہ بارش ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ دھند۔ آر سری دھارن کا کہنا تھا کہ ان کنکشنوں کی تنصیب میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا اور اجازت ملنے کے بعد ایک عام کنکشن کی تنصیب چند گھنٹوں میں مکمل ہو جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس کیبل کنکشن کی تنصیب میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ لیزر کنکشن تکنیک کے استعمال کے بعد سے ٹاٹا ٹیلی سروسز کی خدمات بھارت کے ستر قصبوں اور شہروں سے بڑھ کر ایک ہزار قصبوں اور شہروں تک جا پہنچی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||