انٹرنیٹ: کوہ ہمالیہ کے گاؤں میں بھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ کا استعمال دنیا میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب نیپال کے پہاڑوں میں یاک پالنے والے بھی اس کی افادیت سے آگاہ ہو چکے ہیں اور دور دراز علاقوں میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے مال مویشیوں کی خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں واقع نیپال میں یاک کی افزائش ایک منافع بخش کاروبار ہے اور انٹرنیٹ کو استعمال میں لا کر وہ اسے مزید منافع بخش بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیپال جہاں کےدیہات میں ٹیلیفون کی سہولت زیادہ نہیں ہے وہاں وائرلیس ٹیکنالوجی کی مدد سے پانچ گاؤں کو ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی سہولت مہیا ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایک نیپالی استاد مہابر پن کی کوششوں اور غیر سرکاری تنطیم کی طرف سے فنڈ کی فراہمی کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے ۔ ان پانچ گاؤں کے یاک کے پالنے والے اب ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اینے مویشوں کی خرید وفروخت اور ان جانوروں کی بیماریوں اور دواؤں کے بارے میں تبادلہ خیالات کر سکتے ہیں۔ مہابر پن نے بی بی سی کو بتایا کہ جس گاؤں میں وہ رہتا ہے وہاں سے یاک فارم دو دن کی مسافت پر واقع ہے اور اب وائرلیس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ان لوگوں سے بات چیت کر سکتے ہیں جو یاک فارم پر موجود ہیں۔ اسی طرح وہ یاک فارم پرکام کرنے والے لوگوں کے ساتھ ای میل کے ذریعے رابطہ کے علاوہ وہ نیٹ کانفرنس بھی کر سکتے ہیں۔ چند سال پہلے جب اس پراجیکٹ کی خبر بی بی سی آن لائن پر چلی تواس سے مہابر پن کو مدد ملی اور دنیا سے لوگوں ا ن سے رابطہ کیا اور کئی لوگوں نے ان کی مدد کی۔ مہابر پن اب اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دائرہ کار بڑہانا چاہتے ہیں تاکہ اس سے نیپال میں تعلیم عام کر سکیں۔ مہابرپن کا منصوبہ ہے کہ اس وائرلیس ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ دور دراز جگہوں پر بیٹھے لوگوں سکول آئے بغیر ہی تعلیم مہیا کر سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||