BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹر نیٹ کے مضر اثرات
بچے اکثر اپنے والدین کو نیٹ پر فحاش مواد کے بارے میں نہیں بتاتے
بچے اکثر اپنے والدین کو نیٹ پر فحاش مواد کے بارے میں نہیں بتاتے
لندن میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر والدین کو انٹر نیٹ کے استعمال سے ان کے بچوں پر پڑنے والے مضر اثرات کے بارے میں کوئی آگہی حاصل نہیں ہے۔

لندن سکول آف اکنامکس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم سن بچوں میں سے ستاون فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ پر فحش میٹیریل دیکھتے ہیں۔ تاہم ان میں سے اکثر بچے’ سپیم میل‘ یا سکرین پر اچانک سامنے آجانے والے باکسز کو کلک کر تے ہیں اور یوں فحش مواد ان کے سامنے آ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف سولہ فیصد والدین کو اس بات کا پتہ ہے کہ ان کے بچوں نے انٹر نیٹ پر فحش مواد دیکھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے انٹرنیٹ کے ان خطرات سے آگاہ ہیں لیکن والدین کو نیٹ کے اچھے اور برے استعمال سے باخبر رکھنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔

اکثر نو سے انیس سال کے بچے انٹر نیٹ پر فحش مواد کے بارے میں اپنے والدین کو صرف اس لیے نہیں بتاتے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان پر انٹر نیٹ کا استعمال ہی بند ہو جائے گا یا پھر والدین ان پر غصے کا اظہار کریں گے۔

رپورٹ مرتب کرنے والی پروفیسر سونیا لونگسٹون نے کہا کہ والدین کی اکثریت کو اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ ان کے بچے کس طرح نیٹ سے استفادہ کر رہے ہیں۔

والدین کی کثیر تعداد انٹر نیٹ کو ایک مثبت ’میڈیم‘ سمجھتے ہیں۔

اوسطً نو سے انیس سال کے طالب علم ہفتے میں کم ازکم ایک بار نیٹ استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد