گھرگھر براڈ بینڈ سروس کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ٹیلی مواصلاتی ادارے بی ٹی نے کہا ہے کہ وہ اپنی تیز رفتاربراڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس اب پورے یوکے میں مہیا کرسکے گا۔ بی ٹی کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار پانچ تک اس کے تمام ایکسچینجوں میں اے ڈی ایس ایل ٹیکنالوجی فراہم کر دی جائے گی جس کے بعد ادارہ برطانیہ کے ننانوے اعشاریہ چھ فیصد گھروں اور دفتروں میں براڈبینڈ سروس مہیا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ برطانوی ٹیلی مواصلات کا ادارہ امید کر رہا ہے کہ وہ کم از کم پانچ ملین گھروں کو براڈ بینڈ سروس فراہم کرنے کے قابل ہو جائےگا۔ لیکن مبصرین کے مطابق اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا یہ مطالب ہرگز نہیں ہے کہ دور دراز علاقوں میں واقع رہائش پذیر افراد کو ایک ہی طرح کی سروس مل سکے گی۔ پہلے براڈ بینڈ جیسی تیز انٹر نیٹ سروس کی رسائی ہر صارف کے بس میں نہیں تھی۔ لیکن یہ مسئلہ اب جلد ہی حل ہو جائے گا اور لوگ پرانی انرنیٹ سروس کے بجائے براڈ بینڈ سروس کو ترجیح دیں گے۔ براڈ بینڈ کی جانب سے دیئے جانی والی سخت اور پائیدار تار ’ٹیلی ویسٹ‘ کے باوجود دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ تیز انٹرنیٹ سروس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس سست رفتار انٹرنیٹ سروس کی وجہ میں اے ڈی ایس ایل کی کچھ تکنیکی وجوہات شامل ہیں جو اس کو ایکسچیج تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری پیدا کرتی ہے۔ تجزیہ کار این فوگ کا کہنا ہے کہ سست رفتار انٹرنیٹ سروس کے حوالے سے اگر اگلے پانچ سالوں کے دوران موازنہ کیا جائے تو دیہی علاقوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ لوگ جو لندن یا مانچسٹر میں رہائش پذیر ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وہ صارف جو اس سہولت سے محروم ہیں وہ لوگ اس خبر سے واقعی لطف اندوز ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپ میں اداروں کا مقصد زیادہ صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے کے بجائے ڈی ایس ایل کی سہولت کو ابھارنا ہوتا ہے جو کہ بی ٹی ابھی نہیں کر رہی ہے۔ ٹیلی مواصلات کے ادارے بی ٹی کی یہی کوشش ہے کہ اپنی اے ایس ڈی ایل کی سروس زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پہنچائے۔ لیکن یہ سہولت برقرار رکھنے کی شرط فاصلے کی دوری پر انحصار کرتی ہے۔ اینڈریو فرگیوسن جو کہ اے ڈی ایس ایل کے تجزیہ کار ہیں ان کا کہنا ہے کہ چھ ملین لوگوں کو سہولت فراہم کرنا خوش آئند بات ہے لیکن یہ تعداد ابھی کافی نہیں ہے۔ براڈ بینڈ کی حقیقت آدھے میگا بائٹ کی نہیں ہے لیکن بی ٹی کے اس اقدام نے ان تمام صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ وہ تمام صارفین جو ڈائل اپ کے ذریعے دوسری انٹرنیٹ سروس استعمال کرتے تھے ان لوگوں کو اب اِس چیز کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اینڈریو فرگیوسن نے مزید کہا ہے کہ بی ٹی اب پورے ایک میگا بائٹ کنیکشن کی پیشکش کر رہا ہے جبکہ ٹیلکو اپنی رسائی کو مزید بڑھانے پر غور کر رہا ہے اس طرح نئی ڈیجیٹل آلے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ بی ٹی کو اس بات پر بھی غور کرنا چائیے کہ دوسرے ممالک میں اس سے کئی گنا زیادہ تیز انٹرنیٹ سروس والی سہولتیں موجود ہیں۔ تکنیکی طور سے یہ ممکن ہے کہ دس سے بیس میگا بائیٹ صارف کو فراہم کیے جائیں لیکن اس تبدیلی میں بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||