BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 September, 2003, 13:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمپیوٹر توڑ مقابلہ
ایک شخص اپنا کمپیوٹر تباہ کرتے ہوئے
شرکاء نے ’منفرد تباہی‘ کا مزا لیا

یوکرائن کے ایک مرکزی شہر زیپورِزژیا میں تین سو کے قریب خود کو کمپیوٹر کے دیوانے قرار دینے والوں نے ایک انوکھے مقابلے میں حصہ لیا ہے۔ یہ مقابلہ تھا ان ’دیوانوں‘ کا اپنے کمپیوٹر ہارڈ ویئر کو منفرد طریقے سے تباہ کرنے کا۔

یہ مقابلہ جسے ’ کمپیوٹر تباہ کرنے کا پہلا اوپن مقابلہ‘ کہا گیا تھا ایک مقامی ایف ایم ریڈیو سٹیشن منعقد کروایا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ان نوجوانوں کو کمپیوٹر کے سامنے زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کے خطرات سے آگاہ کرانا تھا۔

یہ مقابلہ تین طرح کے ایونٹس پر مشتمل تھا۔ جن میں کی بورڈ کو پھینکنا، کمپیوٹر ماؤس کو کک لگانا یا لات مارنا، اور سب سے دلچسپ کمپیوٹر کے مانیٹر کو منفرد طریقے سے توڑنا تھا۔

ہجوم کے لئے بھی یہ ایک انوکھا مقابلہ تھا اور جیسے جیسے کاروں کے ٹائروں کے نیچے کمپیوٹر کے ٹوٹنے کی آواز آتی ہجوم کی طرف سے بھی نعرے گھونجتے اور تالیاں بجتی۔

مقابلے میں شریک ایک خاتون
’چوہے‘ کو تو مار ہی دو گی

ستم یہ کہ جیتنے والے کو انعام میں ملا بھی تو کمپیوٹر کا نیا ہارڈ ویئر۔

مقابلے کے شرکاء نے یوکرائن کے ٹیلی وژن کو بتایا کہ وہ اپنے کمپیوٹر تباہ کرنے کے بعد بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

ریڈیو اینجینیئر یوہن ہرتسینکو نے، جنہوں نے ایک سو بتیس فٹ دور کی بورڈ پھینک کر مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کی، کہا کہ وہ ’کمپیوٹر کی لت سے اپنے آپ کو آزاد محسوس کر رہے ہیں۔‘

’حال ہی میں گھر میں میں نے اپنے مانیٹر کو توڑا تھا۔ مجھے اس پر سخت غصہ تھا۔ خوش قسمتی سے میں نے اس وقت کی بورڈ نہیں توڑا تھا۔ تو آج میں اس کو توڑ سکا۔‘

مقابلے میں شریک ایک اور شخص نے کہا کمپیوٹر بڑے گراں بار ہو جاتے ہیں۔ ’میں ان کمپیوٹروں سے تنگ آ گیا ہوں، ہم صرف ان پر بیٹھ کر ٹائپنگ کرتے رہتے ہیں۔‘

ایک اور کا کہنا تھا کہ ’اس کے سامنے سارا دن بیٹھنے کے بعد میں اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔‘

تاہم اس ملک میں جس میں لوگوں کی اوسطً سالانہ آمدنی سات سو ڈالر ہے کمپیوٹر رکھنا ایک آسائش ہے۔

یوکرائن کی آبادی کے صرف چار فیصد لوگ انٹر نیٹ کے باقاعدہ صارف ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد