سستا کمپیوٹر مارکیٹ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سائنسدانوں کا تیار کردہ کم قیمت دستی ’سمپیوٹر‘ تین سال کی تاخیر کے بعد مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔ اس کمپیوٹر کو انسٹیٹیوٹ آف سائنس‘ بنگلور سے تعلق رکھنے والے انجنیئرز اور سائنسدانوں نے مقامی طور پر تیار کیا لیکن کمپیوٹر بنانے والے اداروں کی عدم دلچسپی اور سرمائے کی کمی کی وجہ سے اس کی ترقی پر زد پڑی۔تاہم آخر میں حکومتی ادارے بھارت الیکٹرونکس نے اس دستی ’سمپیوٹر‘ کی تیاری کی حامی بھری اور یوں گزشتہ جمعہ کو اسے فروخت کے لئے پیش کر دیا گیا۔ ’سمپیوٹر‘ کی قیمت دو سو چالیس ڈالر رکھی گئی ہے۔ ’سمپیوٹر‘ کا مقصد کم قوت خرید رکھنے اور دیہات میں رہنے والے افراد کو انٹر نیٹ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے ’انٹر نیٹ انقلاب‘ لانا ہے۔ بھارت میں اس وقت ایک ہزار میں سے صرف نو افراد کے پاس کمپیوٹر ہے اور اس کی واحد وجہ بہت زیادہ قیمت ہے۔
’سمپیوٹر‘ کی باقاعدہ فروخت اپریل میں شروع ہو گی اور پہلے سال پچاس ہزار ’سمپیوٹر‘ کی فروخت متوقع ہے۔’سمپیوٹر‘ مونوکروم سکرین‘ دو سو چھ میگا ہرڈز کے پروسیسراور چونسٹھ ایم بی کی یادداشت کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں اندرونی میکروفون‘سپیکر اور چھ گھنٹے چلنے والی بیٹری بھی شامل ہے۔ ’سمپیوٹر‘ پر انٹر نیٹ‘ ای میل‘ حساب کتاب کرنے اور سکرین پر لکھنے کی سہولت میسر ہے۔ قیمت کم رکھنے کے لئے کمپیوٹر میں لیونکس آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||