غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی کمیونسٹ پارٹیوں نے ملک کی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے حکومت کے منصوبوں کی مخلفت کا اعلان کیا ہے۔ بھارت میں حکومتی اتحاد کی قیادت کانگریس پارٹی کے ہاتھوں میں ہے مگر اس میں چار بائیں بازو کی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتیں مگر وہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے منصوبے کے خلاف ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو اس اختلاف کی وجہ سے ابھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کا اعلان 2004/2005 کے لیے بنائے گئے بجٹ میں کیا گیا تھا۔ اس بجٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو ٹیلی کام سیکٹر میں انچاس فیصد سے بڑھا کر چوہتر فیصد،انشورنس میں چھبیس فیصد سے بڑھا کر انچاس فیصد اور ایوی ایشن سیکٹر میں چالیس فیصد کر دیا جائے گا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے نیشنل سیکریٹری ڈی راجہ کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حدود میں اضافے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حدود کو بڑھانا بھارتی کمپنیوں کو غیر ملکیوں کے ہاتھ دے دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے مل کر اپنی مخالفت کا اظہار کریں گے۔ وزیر خارجہ پی چدمبرم نے پیر کو فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ دراصل اس اضافے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ یہ صرف موجودہ حقیقتوں کو قانونی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف حالات کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 1991 میں معیشت کی اصلاح شروع کی تھی۔ ان کی حکومت کا دارومدار کمیونسٹ پارٹیوں پر ہے، مگر کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی سے سہارا لے سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||