BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 November, 2004, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موبائل فون کمپنیوں کی لڑائی

موبائل فون
موبائل فون کمپنیوں کے صارفین کی تعداد لاکھوں میں
ہندوستان میں ٹیلیفون کی ایک جنگ کا فیصلہ تو ہو گیا جس میں موبائل فون نے اعداد و شمار کے لحاظ سے لینڈ لائن فون پر سبقت حاصل کر لی۔ مگر اب موبائل فون کی سروس دینے والی کمپنیوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔

ملک کے چند بڑے شہروں میں موبائل فون پر ایم ایم ایس یعنی ملٹی میڈیا سروس کی سہولت بعض کمپنیاں تو پہلے سے دے رہی تھیں مگر اس ماہ سے سرکاری کمپنی بھارت سنچار کمپنی لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے ایم ایم ایس سروس شروع کرنے کے اعلان کے بعد سے شہر کے ساتھ دیہی علاقوں کے صارفین کو بھی فائدہ ہونے کی امید ہے۔

بی ایس این ایل بہار سرکل کے ڈی جی ایم موبائل مینک کمار کہتے ہیں کہ ملک کے ہر حصے تک رسائی کی وجہ سے ہماری خدمات زیادہ مقبول ہوں گی۔

وہ بتاتے ہیں کہ تکنیک کی وسعت کہ ساتھ ٹیلیفون ایک ایسی مشین کی مانند ہو گیا ہے کہ جس کے ذریعہ آپ تصاویر، رنگ ٹون، اسکرین سیور، وال پیپر، رنگ ٹون، یا ڈیٹا فائل آسانی سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

ان سہولتوں میں ٹیلیویژن کی خبروں کی کلپ دیکھنے والوں کی بڑی تعداد شامل ہے-

اس کے علاوہ انٹر نیٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ اس لیے مقابلہ یہ ہے کہ یہ تمام خدمات کون سی کمپنی کس انداز میں اور کس نرخ پر دیتی ہے۔

ہندوستان میں اس وقت مختلف علاقائی کمپنیوں کے علاوہ چھ بڑے سروس پرووایڈر ہیں۔ موبائل ٹیلیفون کے معاملے میں بھارتی ٹیلی ونچرز دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلے اور دوسرے نمبر کی کمپنیوں کے بالترتیب نوّے اور اسّی لاکھ صارفین ہیں۔

تیسرے نمبر پر ہچ کے نام سے مشہور ہچیسن اسار ہے۔ اسکے تقریباً پینسٹھ لاکھ صارفین ہیں۔ انکے علاوہ ریلائنس انفو کام، ٹاٹا ٹیلی سروسز اور آئیڈیا کے صارفین کی تعداد بھی اچھی ہے۔

ملک میں تین مخصوص تکنیک کے ذریع ایم ایم ایس کی سہولت دستیاب ہے۔ اس میں جی پی آر ایس یعنی جنرل پیکٹ ریڈیو سروس ایج یعنی انہینسڈ ڈیٹا ریٹس فار گلوبل اولیوشن اور ویپ یعنی وائرلیس ایپلیکیشن پروٹوکال شامل ہیں۔

سیل فونز کی قیمت سات ہزار سے شروع ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہندوستان میں دس لاکھ سیٹس کو جی پی آر ایس کی کنکٹیویٹی حاصل ہے۔

موبائل فون پر ایم ایم ایس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ہندی سنیما کے ڈائیلاگ بن رہی ہیں- مثلاً مشہور فلم شعلے کے ’ارے او سامبا‘ کی طرز پر ’فون اٹھاؤ ورنہ میں آ رہا ہوں‘ قسم کے ڈائیلاگ خوب استعمال ہو رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں ہر ماہ تقریباً چھ لاکھ رنگ ٹون ڈاؤن لوڈ کیے جاتے ہیں- ان میں پچاس ہزار بالی وڈ کے ڈائیلاگ ہوتے ہیں- اس طرح کے رنگ ٹون کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا خرچ سات سے دس روپے آتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد