BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 March, 2005, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیا میں پھولوں سے روزگار

گڑہل کا پھول
گڑہل کے پھول ہندوؤں کے مذہبی رسوم کے لۓ خاص مانے جاتے ہیں
ایک زمانے میں علامہ اقبال نے پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کی بات سوچی تھی،لیکن آج ریاست بہار میں ہندوؤں کے لۓ مقدس شہر گیا میں پھول کی کھیتی سے بے روزگاری کا زہر کٹ رہا ہے۔

پٹنہ سے تقریباً سو کیلومیٹر دور گیا اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں سینکڑوں خاندان پھولوں کی کاشت اور اسکی تجارت سے اپنی معاشی ضروریات پوری کر تے ہیں۔

ریاست میں روزگار کے مواقع جس قدر کم ہیں، اس لحاظ سے پھولوں کی کھیتی نجی روزگارایک اچھی مثال ہے۔ اس کے لیے معمولی سی پونجی، زرعی زمین اور تجارتی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر صرف پھول بیچ کر پیسے کمانا ہوں تو جیب میں دو ، تین سو روپے اور ہار بنانے کا فن ہی بہت ہے۔

جگن مہتا پھولوں کے خاندانی کاشت کار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تین پشتوں سے اس کام میں لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کام سے کوئی ٹاٹا اور برلا تو نہیں بن پایا لیکن عزت کے ساتھ دال روٹی کمائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ سال بھر کچھ نہ کچھ کما سکتے ہیں اور کچھ خاص موقعوں پر توکمائی کافی اچھی ہو جاتی ہے۔

گیا کی خاص بات یہ ہے کہ لوگ یہاں خوشی اور غم دونوں موقعوں پر مندر آتے ہیں۔

یہاں کا وشنوپد مندر ہندوؤں کے لیے کافی مقدس ہے اور شادی کے بعد لوگ یہاں آشیرواد لینے آتے ہیں۔

اسی طرح خاندان میں کسی کی موت کے بعد پوجا پاٹھ کے لیے بھی لوگ یہاں آتے ہیں۔ یہاں کا پتری پکچھ میلہ کافی مشہور ہے۔ ان مواقعوں پر پھولوں کی کافی بکری ہوتی ہے۔

مندر کے پاس پھول سے مالا بنانے والے مالیوں نے بتایا کہ عام دنوں میں ڈیڑھ سے دو سو روپے کی کمائی ہو جاتی ہے۔ شادی کے لگن اور پتری پکچھ میلے کے دنوں میں ایک دن میں پانچ سو سے چھ سو روپے بھی آ جاتے ہیں۔

مندر کے پاس پھول بیچنے والوں کے لیے کمائی کا ایک دلچسپ ذریعہ بھی ہے۔ مندر آنے والے لوگوں کے جوتےاورچپل کی حفاظت کی ذمہ داری لیکر بھی وہ خوب کما لیتے ہیں کیوں کہ مندر کے اندر جوتے لے جانے پر پابندی ہے۔

جگن مہتا بتاتے ہیں کہ شادی کے موقعوں پر مسلمانوں کے یہاں بھی پھولوں کی کافی مانگ ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں گلاب، بیلی، چنبیلی، گیندا اور گڑہل جیسے پھولوں کی کافی طلب ہے اور اسی کے مطابق اس کی کھیتی بھی ہوتی ہے۔

گیندے کے پھولوں کی کھیتی
سینکڑوں خاندان پھولوں کی کاشت سے روزگار چلا رہے ہیں

گڑہل کے پھول ہندوؤں کے مذہبی رسوم کے لیے خاص مانے جاتے ہیں۔ گلاب اور گڑہل کے پھول گنتی سے اور بقیہ پھول وزن سے بکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب سے مصنوعی پھول آئے ہیں قدرتی پھولوں کے تجارت پر تھوڑا سا اثر پڑا ہے لیکن اصلی پھولوں کے قدردان کم نہں ہوئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد