BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عنان کا دورہِ بھارت

News image
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھارت کے چار روزہ دورے کے دوران عالمی ادارے کے مختلف پرگراموں کا جائزہ لے رہیں ہیں۔ ان کی ملاقات وزیراعظم من موہن سنگھ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی سے بھی متوقع ہے۔

کوفی عنان کا یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جب بھارت اور اقوام متحدہ کے مابین سلامتی کونسل کی اصلاحات پر تبادلہ خیال شروع ہوا ہے مسٹر عنان کے دورے سے پہلے ہی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے جکارتہ میں افرو ایشیا کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ ’سلامتی کونسل کی موجودہ رکنیت سن پنتالیس کی شکل پیش کرتی ہے نہ کہ دو ہزار پانچ کی۔‘

جب سے مسٹر عنان نے سلامتی کونسل میں اصلاحات لانے پر زور دیا اس وقت سے ہی مختلف ممالک سلامتی کونسل میں رکنیت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں جن میں بھارت سب سے آگے ہے بلکہ اس کے لے باضابطہ جی فور کے نام سے ایک گروپ تشکیل پایا جن میں بھارت جاپان جرمنی اور برازیل شامل ہیں۔

سلامتی کونسل کے چارٹر کی ساٹھ سالہ تاریخ میں صرف ایک بار ترمیم کی گی جس کی رو سے اس کے غیر مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا
اس کے بعد سے آئے دن کونسل کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہے خاص طور سے جب سے سلامتی کونسل میں عراق کا مسئلہ آن پڑا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ کوفی عنان دو منصوبے لے کر بھارت آئے ہیں۔ ایک تو وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں دوسرا غیر مستقل اراکین میں ایک اور درجے کا اضافے کر کے ممکنہ طور پر جی فور گروپ کے ملکوں کو شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔

من موہن سنگھ نے ایفرو ایشیا کانفرنس میں بھارت کے کیس کو مضبوط بنانے کی بے حد کوشش کی ہے لیکن داخلی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں۔ انہیں بائیں بازو کی جماعتوں کی مخالفت کا سامنا ہے حالانکہ ان جماعتوں کی بیساکھی کے سہارے ہی کانگریس کی حکومت قائم ہے۔

کمیونسٹ جماعتیں من موہن سنگھ کو امریکہ نواز تصور کرتی ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے مابین اگرچہ عراق سے متعلق پالیسی میں خاصا اختلاف ہے تاہم اس وقت دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کئی معاملات میں شراکت دار ہیں جن میں ’دہشت گردی کے خلاف مہم‘ سرفہرست ہے۔

بھارت نے سلامتی کونسل میں رکنیت حاصل کرنے میں بیشتر ممالک کی حمایت حاصل کر لی ہے اور حال ہی میں مبصرین کے مطابق چین نے بھی بھارت کی مدد کرنے کا وعدہ کیا مگر کیا امریکہ اس مرحلے پر کہ جب وہ القاعدہ کے خلاف مہم میں پاکستان کے سہارے چل رہا ہے، بھارت کو سلامتی کونسل میں رکنیت دلانے میں مدد کرے گا؟ اس پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

پاکستان اس سلسلے میں پہلے ہی سرگرم عمل ہے جس نے ایک سن انیس ملکوں کی مدد سے حال ہی میں نیو یارک میں اجلاس بلا کر سلامتی کونسل کے اصلاحاتی عمل میں جی فور گروپ کے کردار کی مخالفت کی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات کی کامیابی کا انحصار جتنا اس کے مستقل اور غیر مستقل اراکین پر ہے، اس سے کہیں زیادہ انحصار امریکہ پر ہے جس نے ادارے کی مستقبل کی تصویر پہلے ہی بنائی ہے تاہم اس میں رنگ بھرنے سے پہلے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس تصویر میں ہر کوئی رنگ بھر سکتا ہے البتہ ان کا رنگ کچا ہو تو وہ کیا کرے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد