BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب جنگ نہیں، کھیل ہوتا ہے

کرکٹ
تمام کھلاڑی ٹیم کے جذبے سے کھیلیں ہیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیض راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچوں میں جنگ جیسی صورتحال نہیں ہوتی اور لوگ کھیل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

پاک بھارت سیریز کے دوران دوستانہ ماحول کے بارے میں تبصرہ کرتے ہو ئے رمیض راجہ کہا کہ وہ اسے ’دوستانہ سیریز‘ کہنے سے گریز کریں گے ۔
انہوں نے کہا اس سے قبل پاک بھارت کرکٹ میچوں میں جو مسائل ہوتے تھے وہ اس سیریز کے دوران نظر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے ٹف کرکٹ کھیلی اور بھارتی ٹیم نے بھی اچھا کھیل پیش کیا۔ کھیل کے لیے حالات بھی سخت تھے۔ تماشائیوں کا تناسب بھی ٹھیک نہیں تھا۔

رمیض راجہ نے کہا کہ انڈیا کو بیس فی صد کے مقابلے میں اسی فی صد سپورٹ حاصل تھی۔ اس ساری صورتحال کے باوجود دونوں ٹیموں کے درمیان گراؤنڈ سے باہر ماحول بہت اچھا تھا۔

رمیض راجہ نے کہا کہ اس سیریز کے ایک اچھی روایت پڑی ہے کہ لوگ کھیل کو کھیل سمجھنے لگے ہیں۔

رمیض راجہ نے کہا کہ چند سال قبل شارجہ میں تماشائی کھلاڑیوں کو روک کر کہتے تھے کہ کسی سے بھی میچ ہار جائیں لیکن بھارت سے نہ ہاریں۔ ’اب ایسے نہیں ہوتا۔ اب جنگ جیسی صورتحال نہیں ہوتی اور لوگ کھیل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں‘۔

پاکستانی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں رمیض راجہ نے کہا کہ اب ٹیم بن گئی ہے اور نئے کھلاڑیوں کو چھ ماہ میں تین چار ایسے موقعے ملے ہیں کہ وہ اب کسی بھی ٹیم کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’کھلاڑیوں نے اعتماد کا ایسا پلیٹ فارم کھڑا کر لیا ہے کہ اب وہ کسی بھی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے گھبرائیں گے نہیں۔‘

کپتان انضمام الحق کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے رمیض راجہ نے کہا کہ انضمام ایک منجھے ہوئے کپتان بن چکے ہیں اور انہوں نے ساری صورتحال کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا۔ ’وہ منہ سے کم بولا اور بلے سے زیادہ باتیں کیں۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں رمیض نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ سیریز کے دوران بھارتی کپتان سررو کنگولی کو کپتانی سے ہٹوا دیا۔
رمیض راجہ نے کہا بھارتی ٹیم کے لیے سب سے بڑا نقصان سررو گنگولی کو ٹیم سے نکالا جانا تھا۔ جب کوئی ٹیم کپتان کھو دیتی ہے تووہ دباؤ میں آجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ستون ہل جاتا ہے تو باقی ٹیم کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی اچھے جذبے کے ساتھ کھیلے۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر کبھی کسی کو شک و شبہ نہیں تھا۔

نئے کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں رمیض نے کہا کہ شاہد آفریدی، یونس خان اور رانا نوید الحسن نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی کامیابی میں نائب کپتان یونس خان کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ دوسرے میچ میں ان کی واپسی بہت عمدہ تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد