فائٹنگ کوالٹی، پاکستان کی طاقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر نہ تو وکٹ ہی ٹوٹی اور نہ ہی پاکستان کی جیت کا سلسلہ لیکن اپنی ٹیم کو شکست کے دہانے پر دیکھ کر بعض ہندوستانی شائقین کا صبر کا پیمانہ ضرور لبریز ہو گیا۔ کچھ ہندوستان کی خراب کارکردگی اور کچھ پاکستان کی جیت کے امکان سے مشتعل لوگوں نے بڑی تعداد میں پانی کی بوتلیں میدان پر پھینکیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کچھ دیر کے لیے میدان سے باہر جانا پڑا۔ ہندوستانی کپتان راہول ڈراوڈ نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناراضگی دکھانے کے طریقے اور بھی ہیں جبکہ انضمام نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی اور کھیل میں کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے۔ آسٹریلیا کے دورے کے بعد شکست خوردہ پاکستانی ٹیم نے جب ہندوستان کا مشکل دورہ شروع کیا تو بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ یہ ناتجربہ کار ٹیم ہندوستان کے سامنے ٹک پائے گی۔ لیکن چھ ہفتوں تک ہندوستان کے چپے چپے کی خاک چھاننے کے بعد جب پاکستنانی کھلاڑی مڑ کر اس دورے کے نشیب و فراز پر نگاہ ڈالیں گے، تو بلا شبہ انہیں اپنی کامیابیوں کا پلڑا بھاری نظر آئےگا۔ پاکستان نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں جس انداز میں واپسی کی وہ اس ٹیم کی فائٹنگ کوالٹی کی عکاس ہے اور یہی آسانی سے شکست تسلیم نہ کرنے کی خوبی اب اس ٹیم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاکستانی ٹیم میں یوں تو ہمیشہ سے بے پناہ صلاحیت رہی ہے لیکن ماضی میں کھلاڑیوں کے آپسی اختلافات اس کی کامیابیوں کی راہ میں آڑے آتے رہے۔ لیکن اب کمان مضبوطی سے انضمام الحق کے ہاتھوں میں ہے اور ان کا اعتماد ہر میچ میں صاف نظر آیا۔ اس مرحلے پر تو اس ٹیم کا مستقبل روشن ہی نظر آتا ہے کیونکہ یہ کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کرتی۔ بہر حال، یہ فرینڈ شپ سیریز بھی کرکٹ ڈپلومسی کا حصہ تھی اور جتنے لوگوں سے بھی میری بات ہوئی، سب کا یہی خیال تھا کہ سارے میچ انتہائی دوستانہ ماحول میں کھیلے گئے اور ان میں وہ پہلے کی سی دشمنی کسی مرحلےپر نظر نہیں آئی۔ اس سیریز کی یہ سب سے بڑی کامیابی مانی جائے گی۔ آخری میچ دیکھنے صدر مشرف بھی پہنچے۔ کھیل کے آغاز سے قبل انہوں وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ہمراہ سبھی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملایا۔ یوں تو جنرل مشرف نے سبھی پاکستانی کھلاڑیوں کے سر پر ہاتھ پھیرا لیکن سب سے زیادہ شفقت شاہد آفریدی کے لیے بچاکر رکھی اور آفریدی نے آج پھر جس انداز میں بیٹنگ کی، اس سے یقیناً صدر مشرف کا دل خوش ہوا ہوگا۔ جس طرح سے یہ سیریز شیڈول کی گئی تھی، اس میں بہتری کی بہت گنجائش تھی۔ کھلاڑیوں اور صحافیوں دونوں کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچنا آسان نہ تھا کیونکہ میچوں کے درمیان وقفہ بہت کم تھا۔ ایک روزہ میچ نہ صرف ہندوستان کے چاروں کونوں میں کرائے گئے بلکہ چلچلاتی ہوئی گرمی میں کھیلے گئے۔ لیکن اس کے باوجود تقریباً ہر میچ میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے تین سو سے زیادہ رن بنائے جس سے ظاہر ہوتا ہےکہ آجکل کے کھلاڑی کتنے فٹ ہوتے ہیں۔ شائقین کا رویہ ایک دو سینٹرز کو چھوڑ کر اچھا رہا لیکن وہ بات دیکھنے کو نہیں ملی جو گزشتہ برس پاکستان میں نظر آئی تھی۔ شاید اس وقت میزبانی کا جذبہ کرکٹ کی شدت پر غالب آگیا تھا اور ہر سیریز میں ویسے ہی رویہ کی امید کرنا غلط ہوگا۔ بھارت کے لیے کئی مایوسیاں رہیں۔ پوری ٹیم صرف سہواگ کی بیٹنگ پر ٹکی ہوئی تھی۔ سہواگ آؤٹ ہوئےاور ٹیم دباؤ میں آئی۔ اور نہ ہی بولنگ میں کوئی استحکام نظر آیا۔ پوری سیریز میں فاسٹ بولر بھی بدلتے رہےاور اسپنر بھی۔ شاید میزبان ٹیم کو سب سے زیادہ نقصان سورو گانگولی کے خراب فارم سے ہوا۔ سورو کی کپتانی کا دنیا میں لوہا مانا جاتا ہے لیکن اس بار وہ اپنا فارم سدھارنے میں الجھے رہے اور کئی مراحل پر ٹیم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ آئی سی سی کی جانب سے کوئی پابندی نہ ہونے کے باوجود آخری دو میچوں میں انہیں نہیں کھلایا گیا اور لگتا ہے کہ اس شاندار کھلاڑی کا کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||