پاکستان سیریز جیت گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخری ایک روزہ میچ میں پاکستان نے بھارت کو 159 رن سے شکست دے کر ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز دو کے مقابلے میں چار میچوں سے جیت لی ہے۔ اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی تھی۔ پاکستان کے تیز رفتار بالر رانا نوید کو مین آف دی سیریز اور شعیب ملک کو آخری میچ کا ہیرو قرار دیا گیا۔ آخری میچ میں بھارت کو پاکستان نے 303 کا ہدف دیا تھا جس کا حصول کی کوشش میں بھارت 144 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔میچ کے کسی بھی مرحلے پر بھارت کی ٹیم پاکستان کی بیٹنگ اور باولنگ کا مقابلہ نہ کر سکی۔ بھارتی ٹیم کی آخری ایک روزہ میچ میں مایوس کن کارکردگی پر تماشائیوں نے میدان میں بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں جس کے بعد پاکستانی ٹیم احتجاج کرتے ہوئے میدان سے باہر چلی گئی اور کھیل کو تھوڑی دیر کے لیے روک دیا گیا۔ کھیل رکنے سے پہلے بھارت کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو کیف کو عبدالرزاق نے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس سے قبل وریندر سہواگ آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے جو 21 رن بنانے کے بعد رانا نوید کی گیند پر آفریدی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ جب کے دوسری طرف سے راؤ افتخار انجم نے سچن تندولکر کو نو کے انفرادی سکور پر بولڈ کر دیا۔
اس کے بعد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی راہول ڈراوڈ تھے جو 19 رن بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے۔ یوراج آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی تھے وہ بھی رن آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد دھونی آؤٹ ہوئے ان کا کیچ ارشد خان کی گیند پر آفریدی نے لیا۔ اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوور میں 303 رن بنائے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ اس میچ میں بھی پاکستان کے تمام بلے بازوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس میچ کا آغاز بھی شاہد آفریدی نے نہایت تیز رفتاری سے کیا لیکن نوجوان بلے باز سلمان بٹ ان کا زیادہ دیر تک ساتھ دینے میں کامیاب نہیں رہے اور صرف تین رن بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ سلمان بٹ ظہیر خان کی ایک گیند کو کٹ کھیلنا چاہتے تھے لیکن اس کوشش میں وہ سلپ میں کھڑے وریندر سہواگ کو کیچ دے بیٹھے۔ یہ ایک مشکل کیچ تھا لیکن وریندر سہواگ نے اس کو جانے نہیں دیا۔ آفریدی نے اشیش نہرا کے پہلے ہی اوور میں چار چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ تاہم رن بنانے کی اس رفتار کو برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ پاکستان نے پہلے پانچ اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی لیکن اس کے بعد ایک مرتبہ پھر اشیش نہرا آفریدی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آفریدی نے 23 گیندوں پر چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 44 رن بنائے۔ اشیش نہرا نےاس سے قبل بھی اس سیریز میں آفریدی کو دو مرتبہ آؤٹ کیا تھا۔ آفریدی اشیش کی ایک آف اسٹمپ پر پڑی گیند کو دفاعی انداز میں تھرڈ مین کی طرف کھیلنا چاہتے تھے لیکن اسی کوشش میں میں گیند ان کے بلے کا کنارا لیتے ہوئے دھونی کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ پاکستان کے اوپنرز کے آؤٹ ہوجانے کے بعد شعیب ملک اور یوسف یوحنا کھیلنے آئے۔ ان دونوں نے پاکستان کے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا لیکن پاکستان کے رن بناننے کی شرح کم ہو کر پانچ عشاریہ پانچ تک آگئی۔
یہ دونوں کھلاڑی اپنی نصف سنچریاں بناننے میں کامیاب ہو گئے۔ یوحنا نے نصف سنچری بنائی ہی تھی جب وہ ایک تیز رن بناتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے۔ تندولکر کی پھینکی ہوئی ایک گیند سیدھی وکٹوں میں جا لگی اور یوحنا انچوں کے فرق سے پویلین واپس لوٹنا پڑا۔ یوحنا کے آؤٹ ہوجانے کے بعد کپتان انضمام الحق کھیلنے آئے جو اس سیریز میں اپنی زندگی کی بہترین اننگز کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مخصوص جارحانہ مگر محتاط انداز میں رن بنانا شروع کر دیے۔ اس مرحلے پر جب پاکستان کا اجتماعی سکور 193 رن پر پہنچا تو شعیب ملک کو اجیت اگرکر نے بولڈ کر دیا۔ شعیب ملک نے 87 گیندوں پر 72 رن بنائے۔ شعیب ملک کی جگہ یونس خان نے لی اور نائب کپتان نے کپتان کے ساتھ مل کر کھیلنا شروع کیا۔ انضمام کواپنی اننگ کے دوران کسی مرحلے پر بھی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں ہوا اور وہ ایک رن فی گیند کی رفتار سے سکور میں اضافہ کرتے رہے۔ یونس خان نے بھی کپتان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 42 گیندوں پر 40 رن بنائے۔ اس موقع پر نہرا نے یونس خان کی کیچ اپنی ہی گیند پر پکڑ کر بھارت کو وکٹ دلا دی۔ اشیش نہرا نے اگلی ہی گیند پر عبدالرزاق کو آؤٹ کر دیا۔ عبدالرزاق نہرا کی ایک فل ٹاس گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ آوٹ ہوئے۔اس وقت پاکستان نے 282 رن بنائے تھے۔ آخری اوور میں کپتان انضمام کو ایمپائر کے ایک متنازعہ فیصلے کی بنا پر پویلین میں لوٹنا پڑا۔ انہیں اگرکر کی آف سٹمپ سے باہر گری ہوئی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ دیا گیا۔
میچ کی آخری گیند پر کامران اکمل کو اجیت اگرکر نے بولڈ کر دیا۔ رانا نوید نے اس سے قبل اسی اوور میں دو چوکے لگائے۔ اب تک کے میچوں میں پہلے دو میچ بھارت نے اور اس کے بعد تین میچ پاکستان نے جیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی ٹیمیں مندرجہ ذیل کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں: بھارت کی ٹیم: وریندر سہواگ، سچن تندولکر، ایم ایس دھونی، راہول ڈراوڈ (کپتان)، یوراج سنگھ، محمد کیف، ہربھجن سنگھ، دنیش مونگیا، ظہیر خان، اجیت اگرکر اور اشیش نہرا پاکستان کی ٹیم: سلمان بٹ، شاہد آفریدی، شعیب ملک، انضمام الحق (کپتان)، یوسف یوحنا، عبدالرزاق، کامران اکمل، یونس خان، افتخار انجم، نوید الحسن اور ارشد خان۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||