’امریکہ، بھارت کا مفاد مشترک ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے دورہ امریکہ کے آغاز پر کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس اہم دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ وہ وائٹ ہاؤس میں صدر جارج بش کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے بعد ازاں بات چیت کا آغاز کر دیا جن میں دہشت گردی اور تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پر بات چیت ہوگی۔ من موہن کے ایجنڈے پر سکیورٹی کونسل میں بھارت کے لیے مستقل رکنیت حاصل کرنے کی مہم کو آگے بڑھانا بھی شامل ہے۔تاہم اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا کہ امریکہ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت کرے گا۔ وائٹ ہاؤس میں من موہن سنگھ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت مشترکہ مفادات اور روایات رکھتے ہیں اور ان دونوں ممالک کو ایک جیسے خطرات کا ہی سامنا ہے۔ صدر بش نے اس موقع پر کہا کہ بھارت دنیا کو ایک پر امن جگہ بنانے کے عمل میں امریکہ کا قریب ترین ساتھی ہے۔ من موہن سنگھ منگل کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ اس سے قبل بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے خلاف اس تنقید کو سختی سے رد کر دیا کہ وہ غیر وابستہ ملکوں کی تنظیم کے اصولوں پر امریکہ سے سودی بازی کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نےامریکہ کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوتے ہوئے اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کی آخر سانس تک بھارت کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ امریکہ کے تین روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ صدر بش سے ملاقات کے علاوہ بش انتظامیہ کے متعدد اعلی اہلکاروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کے دوران بھارت امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی میں اشتراک کے بارے میں ایک معاہدے کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ بھارت کی خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ ’بھارت قابل فروخت نہیں ہے۔‘ من موہن سنگھ کے سیاسی مخالف ان پر غیر وابستہ ملکوں کی تحریک کے اصولوں پر سودہ بازی کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کی اور ان کی جماعت کی توہین کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگرس نے تحریک آزادی کے دوران اور آزادی کے بعد بہت سے عظیم رہنماؤں کو جنم دیا اور ان رہنماؤں نے ملک کی عزت اور وقار کے لیے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ ایک ایسی جماعت کا وزیر اعظم دانستہ یا نا دانستہ طور پر بھارت کے مفادات کا سودا کر دے گا انتہائی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت پسندی کا دورہ ہے اور ہمیں اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ہے جس کا اثرورسوخ بین الاقوامی سطح کے ہر معاملے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شعبے میں امریکہ اور بھارت کے مفادات ایک جیسے ہوں لیکن پھر بھی ہم الگ تھلگ رہ کر ترقی نہیں کر سکتے۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ انہوں مشترکہ مفادات کا تعین کرنا ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||