’بھارت کے مفاد کا سودا نہیں کروں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے خلاف اس تنقید کو سختی سے رد کر دیا ہے کہ وہ غیر وابسط ملکوں کی تنظیم کے اصولوں پر امریکہ سے سودی بازی کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نےامریکہ کے تین روزہ دورے پر جاتے ہوئے اپنے جہاز پر اخبار نویسوں کو کہا کہ وہ اپنی زندگی کی آخر سانس تک بھارت کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ امریکہ کے تین روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ صدر بش سے ملاقات کے علاوہ بش انتظامیہ کے متعدد اعلی اہلکاروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کے دوران بھارت امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی میں اشتراک کے بارے میں ایک معاہدے کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ اپنے دورے کے دوران من موہن سنگھ امریکی کانگرس کے مشترکہ سے بھی خطاب کریں گے۔ بھارت کی خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ ’بھارت قابل فروخت نہیں ہے۔‘ من موہن سنگھ کے سیاسی مخالف ان پر غیر وابسطہ ملکوں کی تحریک کے اصولوں پر سودہ بازی کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کی اور ان کی جماعت کی توہین کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگرس نے تحریک آزادی کے دوران اور آزادی کے بعد بہت سے عظیم رہنماوں کو جنم دیا اور ان رہنماوں نے ملک کی عزت اور وقار کے لیے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ ایک ایسی جماعت کا وزیر اعظم دانستہ یا نا دانستہ طور پر بھارت کے مفادات کا سودا کر دے گا انتہائی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت پسندی کا دورہ ہے اور ہمیں اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ہے جس کا اثرورسوخ بین الاقوامی سطح کے ہر معاملے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شعبے میں امریکہ اور بھارت کے مفادات ایک جیسے ہوں لیکن پھر بھی ہم الگ تھلگ رہ کر ترقی نہیں کر سکتے۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ انہوں مشترکہ مفادات کا تعین کرنا ہو گا۔ من موہن کے ایجنڈے پر سکیورٹی کونسل میں بھارت کے لیے مستقل رکنیت حاصل کرنے کی مہم کو آگے بڑھانے بھی شامل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||