بش کے دورے کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں ایک طرف صدر بش اور وزير اعظم منموہن سنگھ جوہری معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب پورے ملک میں بش کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔ دلی میں بائيں بازو کی جماعتوں اور سماجوادی پارٹی کی ایک ریلی میں کئی بڑے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں صدر بش کے خلاف ’بش ہندوستان چھوڑو‘ اور ’بش جنگی مجرم ہے‘ جیسے پوسٹرز لیئے ہوئے تھے اور بش کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس ریلی کی سربراہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما اے بی بردھن نے کی۔ مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کارت نے اپنے خطاب میں صدر بش کو جنگی مجرم قرار دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا ’صدام حسین کے بجائے جارج بش کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے کیوں کہ وہ افغانستان اور عراق میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔‘
بش کے خلاف ملک کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیئے جا رہے ہیں۔ ممبئی کے آزاد میدان میں مختلف سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں نے احتجاجی ریلی کا اعلان کیا۔ اس احتجاج میں بائيں بازوں کی جماعتیں، سماجوادی پارٹی اور کئ مسلم اور غیری سرکاری تنظیموں نے شرکت کی۔ شہر کے کئی علاقوں میں احتجاج کے طور پر تاجروں نے دکانیں بھی بند رکھیں ہيں۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی بش کی آمد کے خلاف مظاہرے کیئے گئے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرے کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیئے پولیس کو ہوا میں فائرنگ بھی کرنی پڑی ہے۔ حیدرآباد شہر میں کئی مصنفین ، ادیبوں اور شاعروں نے بش کے ہندوستان دورے کے خلاف مختلف شعر پڑھے اور تقریريں کیں۔ صدر بش کل حیدرآباد کا دورہ کرنے والے ہيں۔ | اسی بارے میں زبردست مظاہرے: بش دلی میں01 March, 2006 | آس پاس بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان بش دورہ، احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ01 March, 2006 | پاکستان بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||