بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا آغاز ہوا ہے پاکستان کی خواہش رہی ہے کہ امریکہ بھارت پر اتنا دباؤ ڈالے کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا تصفیہ ہوجائے جبکہ امریکہ نے پاکستان کے تعاون کے عوض اسے فوجی ہتھیار اور معاشی امداد دینے پر اکتفا کیا ہے۔ صدر جارج ڈبلیو بش کے دورے سے پہلے بھی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کی امریکی صدر سے بات چیت کا محور کشمیر ہوگا اور یہ کہ امریکہ بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر حل کرانے میں مدد کرے۔ تاہم صدر بش نے چند دنوں پہلے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقین کے کے لیے قابل قبول ہو۔ جو باتیں آج صدر جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں وہ اس سے پہلے صدر جنرل ایوب خان بھی کہہ چکے ہیں۔ جنرل مشرف کے بیانات جنرل ایوب کی باتوں کا ’ری پلے‘ معلوم ہوتی ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کمیونزم کے خلاف اپنے کردار کی وجہ سے صدر کینیڈی اور صدر جانسن کے چہیتے تھے جیسے آج جنرل مشرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر بش کے دوست سمجھے جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کی امریکہ کے لیے خدمات کے عوض امریکہ بھارت سے کشمیر کا معاملہ حل کراسکتا ہے اور صدر مشرف کے بیانات سے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ سابق امریکی سفارت کاروں جیسے ڈینس ککس کی لکھی ہوئی تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایوب خان نے امریکہ کو یہ پیغام دیئے کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے (جو پاکستان کا سرکاری موقف تھا) کے علاوہ بھی کسی ممکنہ تصفیہ کے لیے تیار ہیں۔اب جنرل مشرف نے بھی یہ بات کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایوب خان نے یہ بات کُھلے عام نہیں بلکہ سفارتی ذرائع سے کی تھی جبکہ جنرل مشرف نے کھلے عام یہ موقف اختیار کرلیا ہے۔
پچاس کی دہائی سے اب تک آئزن ہاور، کینیڈی اور ریگن کے ادوار میں امریکہ نے پاکستان کو ایک اتحادی ملک ہونے کے ناطے جدید ہتھیار دیئے۔ اسی کی دہائی کے آخر تک پاکستان کمیونسٹ بلاک کے خلاف اتحادی تھا اور اب پانچ سال سے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف۔ اس عرصہ میں امریکہ نے پاکستان کو خود بھی معاشی امداد دی اور عالمی مالیاتی اداروں جیسے عالمی بنک اور آئی ایم ایف وغیرہ سے بھی دلوائی۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی فوجی حکومتوں کو استحکام بخشنے میں اس معاشی امداد کا خاصا عمل دخل تھا۔ تاہم کشمیر کے معاملے پر امریکہ نے بھارت کو پاکستان سے بات چیت کرنے پر آمادہ تو کیا لیکن وہ اسے کبھی اتنا مجبور نہیں کرسکا کہ اس معاملہ کا حتمی حل نکل آئے۔ صدر کینیڈی کے زمانے میں امریکہ نے بھارت پر پاکستان سے بات چیت کرنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا تھا کیونکہ انہوں نے بھارت کی چین سے جنگ کے بعد بھارت کو امریکی اسلحہ دیا تھا۔
صدر کینیڈی کی کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور بھارت کے وزیر خارجہ سورن سنگھ کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں لیکن کوئی تصفیہ نہیں ہوسکا۔ اب بھی امریکہ کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات پر بات چیت ہورہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کا امریکہ سے تعاون، لڑائی اورتناؤ سے پاک مستحکم جنوبی ایشیاء اور بھارت کی منڈی تک رسائی امریکہ کے بڑے اہداف ہوسکتے ہیں۔ اس وقت امریکی فوجیں افغانستان اور عراق میں اس کی قائم کردہ حکومت کے خلاف جاری مزاحمت سے نبرد آزما ہیں۔ مشرق وسطی کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں عدم استحکام ہے۔ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر اس کے خلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہا۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کی فطری خواہش ہوگی کہ مشرق وسطٰی کے پڑوس میں واقع جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام نہ ہو یعنی خطے کے دوبڑے ملکوں بھارت اور پاکستان میں کوئی لڑائی یا کشیدگی نہ ہو۔ بھارت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت اور بیس کروڑ سے زیادہ متوسط طبقہ پر مبنی منڈی سے امریکہ کے بڑے معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے لیے بھی امریکہ کو بھارت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ بھارت نے ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی حمایت کرکے امریکہ کا یہ کام کردیا ہے۔
اس کے عوض امریکہ نے صدر بش کے دورہ کے موقع پر بھارت سے ایٹمی تعاون کے سمجھوتہ کو حتمی شکل دے دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کو باضابطہ طور پر ایک ایٹمی طاقت تسلیم کرلیا ہے اور اس کے لیے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے لیئے پاکستان کی کوئی خاص معاشی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو اپنی معیشت کے استحکام اور فروغ کے لیئے امریکہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ پر قائم رہے، جنوب ایشیا میں استحکام قائم رکھنے میں امریکہ سے تعاون کرے اور افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف امریکہ کی مدد کرے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس کے عوض کیا حاصل کرسکتا ہے۔ صدر مشرف کے بیانات سے ظاہر ہے کہ وہ بھارت سے کشمیر کے تصفیہ کے لیے امریکہ کی مدد چاہتے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر جنرل(ر) جہانگیر کرامت کا بیان بتاتا ہے کہ پاکستان بھی امریکہ سے بھارت جیسا ایٹمی سمجھوتہ چاہتا ہے۔ تاہم صدر بش کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی ترغیبات دینے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی منڈی میں زیادہ رسائی دینے کے لیے پاکستان سے سرمایہ کاری اور تجارت کا معاہدہ کریں گے اور پاکستانی طالبعلموں کےلیے امریکی کالجوں میں زیادہ سے زیادہ وظیفے مختص کریں گے۔ امریکہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کا اعلان پہلے ہی کرچکا ہے۔ گویا بظاہر تو ساٹھ کی دہائی کی طرح امریکہ پاکستان کو فوجی ہتھیار بیچنے اور معاشی امداد دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کی اس خواہش کا کیا بنے گا کہ تنازعہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے امریکہ مدد کرے، یہ وقت ہی بتائے گا۔ |
اسی بارے میں دو امریکی اہلکاروں سمیت چار ہلاک02 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی میں 45 ہلاک01 March, 2006 | پاکستان بش دورہ، احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ01 March, 2006 | پاکستان ’بات چیت کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا‘28 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||