’وہ آئے ہمارے گھر میں!‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودھری صاحب ہمارے علاقےمیں اور ہمارے ہمسائے کے گھر کو تو کئی روز رونق بخشیں،مگر ہمارے گھر سے ایک گلاس پانی کا پی کر جائیں ۔۔۔۔۔ کسقدر توہین ہوگی۔یہ ہماری۔ان قسموں کا کیا ہوگا جن میں ہم گاؤں والوں کی چودھری صاحب اور اپنی دوستی کے تعلقات کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں؟ تو بھائی لوگو۔ قصہ اس بار بھی کچھ اسی طرح کا ہی ہے بس یہ کہ یہاں چودھری صاحب یا کسی شہنشاہ کی جگہ صدربش جو کہ ہمارے اس گلوبل ویلیج کے چودھری ہیں،ہمارے پایہ تخت پر عارضی طور پر رونق فروز ہوا چاہتے ہیں۔ دیگر کئی باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں دکھ اس بات کا ہے وہ انڈیا میں کئی روز گزاریں گے اور ہمارے لیے ان کے پاس فی الحال چار گھنٹے ہی ہیں۔اگرچہ اسلام آباد میں یہ چہ میگوئیاں عورج پر ہیں کہ شاید جناب بش ہمیں ایک سرپرائز دیں اور ہمیں طے شدہ وقت سے زیادہ اپنی خدمت کا موقع عطا کریں۔ یہ خبر اسلام آباد وگردونواح میں مستقل ایستادہ سیکیورٹی ایجنسیز کے لیے شائد اتنی خوش کن نہ ہو۔ان سے پہلے یہ کئی آنے والے بھگت چکے ہیں۔ پہلے محرم آیا، پھر کرکٹ میچ اور اب بش صاحب تشریف لارہے ہیں۔وہ جتنی دیر یہاں رکیں گے۔ان سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے باعث تکلیف ہی رہیں گے۔ صدر بش کے متوقع سرپرائز کے بارے میں کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ان کے اچانک افغانستان دورے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اگر بش صاحب افغانستان جاسکتے ہیں تو کہیں بھی کسی وقت آدھمکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دروازے پر دستک دینے کی شرط سے وہ مستثنٰی ہیں ہی۔ فرض کریں کہ آپ یونہی بے تکلفی سے بیٹھے ہیں اور وہ آجائیں ہائے اللہ ! اپنے لاہور میں بش کے افغانستان دورے کے بعد قدرے اطمینان ہے۔ لاہور کے خود شہروں میں سے ایک شہر ہے اور ہندوستان سے منسلک ہے، جز بجز ہو رہا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ جہاں سرزمین دلی و حیدر آباد شہنشاہ عالم کی میزبانی میں سرخرو ہورہا ہو،خود یہ شہر اکبر و کھر و شہباز و پرویز جناب بش کے ناز اٹھانے سے محروم رہ جائے۔اب یہ امید بندھی ہے کہ اگر صدر عالی مرتبت کابل و افغان میں جلوہ افروز ہو سکتے ہیں تو وہ ہرگز لاہور سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اگر ہم قومی و دیگر مفادات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور ساتھ لاہور سے بھی واقف ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگلے ہفتے اسی وقت لاہور میں گفتگو کا موضوع کیا ہوگا۔ ’دلی کے بعد تو لاہور ہی بنتا ہے۔ بش لاہور آئے تھے۔ کسی نے ہمیں بتایا ہی نہیں! ہاں وہ آئے تھے۔۔۔۔۔ایک شام میاں یوسف صلاح الدین کی حویلی میں گذاری۔ پتنگوں کی ’چیرہ دستیوں‘ سے محظوظ ہوئے اور چپ چاپ چلے گئے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ہمارے علاقے میں آئیں اور لاہور نہ آئیں۔‘ | اسی بارے میں مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||