BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 March, 2006, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو امریکی اہلکاروں سمیت چار ہلاک

دھماکے ایسی جگہ ہوئے جہاں پہلے ہی سے سکیورٹی سخت تھی
کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں امریکی سفارت خانے کے دو اہلکاروں سمیت کم سے کم چارافراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بم دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کا ایک ٹینک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں دوسرا دھماکہ بھی ہوا۔ان واقعات میں پینتیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں رینجرز کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔ پولیس کو شبہہ ہے کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے امریکی سفارتخانے کے ترجمان پیٹر کوزیچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی قونصل خانے کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ان کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں ایک امریکی سفارتکار جبکہ دوسرا قونصل خانے کا پاکستانی ملازم ہے۔

کراچی میں مقامی وقت کے مطابق نو بج کر پانچ منٹ پر ہونے والا یہ دھماکہ شہر میں سر عبد اللہ ہارون روڈ پر امریکی قونصلیٹ اور میریٹ ہوٹل کے پیچھے نیول سینٹرل سرجری کے سامنے ہوا۔ ایک کار امریکی قونصلیٹ کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ یہ دھماکہ قونصلیٹ کے عقبی داخلے سے چند قدموں کے فاصلے پر ہوا۔

بم سپوزل سکواڈ کے انسپیکٹر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ بم سوزوکی مہران کار میں فٹ تھاجو دھماکے سے پھٹ گیا جبکہ دیگر گاڑیوں میں آگے لگنے کے بعد دوسرا دھماکہ ٹینکی پھٹنے سے ہوا ہے۔

دھماکے سے درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں

یہ دھماکہ امریکی صدر جارج بش کے پاکستان دورے سے صرف دو روز پہلے ہوا ہے۔ امریکی صدر گزشتہ روز بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر دلی پہنچے تھے۔

دلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر بش نے کہا کہ انہیں کراچی دھماکے کی اطلاع مل گئی ہے۔ انہوں نے اس واقع میں امریکی فارن سروس کے اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کے پاکستان کے دورے میں تبدیلی نہیں ہوگی۔

ڈی آئی جی انویشٹیگیشن منظور مغل نے شہر کے ہائی سکیورٹی والے اس علاقے میں ہونے والے اس دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت اور پینتیس سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دھماکے کے زخمیوں کو پاک بحریہ کے ہسپتال پی این ایس شفا اور جناح ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے ۔

دھماکے میں رینجنرز اور پولیس کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں

جناح ہستپال کی ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق زخمیوں میں مراکش کی ایک بچی بھی شامل ہے۔ جبکہ دیگر زخمیوں میں میریٹ کے ملازم، سکیورٹی گارڈ اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔

نیوی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے چودہ کے قریب جوان زخمی ہوئے ہیں تاہم ان میں زیادہ تر معمولی ز خمی ہیں۔

دھماکے کے بعد ہوٹل کے پارکنگ ایریا میں کھڑی ہوئی دس سے زائد گاڑیوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ نیول ہسپتال کا ایک کمرہ اور میریٹ ہوٹل کا گارڈ روم شدید متاثر ہوئے ہیں۔

زودرار بم دھماکے نے امریکی قونصلیٹ کی عمارت کو بھی ہلا دیا۔ ہوٹل کے بیرونی اور کمروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور لوگ ہوٹل سے باہر آگئے۔

امریکی صدر کا پاکستان دورہ
کراچی میں ہونے والا یہ دھماکہ امریکی صدر جارج بش کے پاکستان دورے سے صرف دو روز پہلے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر گزشتہ روز انڈیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر دلی پہنچے تھے

بم ڈسپوزل عملے کا خیال ہے کہ بم کسی بڑی گاڑی میں نصب کیے گئے تھے جس کا ایکسل میریٹ ہوٹل کے سیکیورٹی روم پر جا کرگرا۔

بم دھماکے کے بعد پولیس اور رینجرز نے پورے علاقے کو گھیراؤ میں لے لیا ہے۔ جبکہ دھماکے والی جگہ کو شامیانے لگاکر بند کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک
15 November, 2005 | پاکستان
کراچی میں بم دھماکہ
15 January, 2004 | پاکستان
کراچی میں بم دھماکہ
19 September, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد