امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ تین سالوں میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر یہ تیسرا حملہ کیا گیا ہے۔ دو حملوں میں جانی نقصان ہو ا جبکہ ایک میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ چودہ جون سن دو ہزار دو میں امریکی سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے دورہ پاکستان کے ایک روز بعد امریکی قونصلیٹ کے باہر ایک کار میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں گیارہ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں قونصلیٹ کے پانچ پاکستانی ملازم اور ایک میرین گارڈ بھی شامل تھا۔اس بم دھماکے کے بعد امریکہ نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے قونصلیٹ بند کردیئے تھے۔ مارچ سن دو ہزار چار میں قونصلیٹ کے باہر ایک گاڑی میں نصب بم کو ناکارہ بنایا گیا تھا۔ وین کی ایک ٹینکی میں کیمیکل سے بھرا ہوا مواد رکھا گیا تھا جس میں طاقتور ڈیٹونیٹر لگائے گئے تھے۔ بم ڈسپوزل کے عملے کا کہنا تھا کہ دھماکے کی صورت میں ایک بڑے علاقے کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ شہر کی عبد اللہ ہارون روڈ پر امریکی قونصلیٹ کی سائیڈ پبلک آمدورفت کے لیئے بند ہوتی ہے۔جبکہ سڑک کے دونوں طرف رینجرز اور پولیس چوبیس گھنٹے موجود رہتی ہے۔ حفاظتی انتظامات کے پیش نظر اس علاقے کو ہائی سکیورٹی زون قرار دیا گیا ہے۔ مگر تخریب کاری کی بڑی وارداتیں اسی علاقے میں ہوئی ہیں۔ دو ہزار دو میں آٹھ مئی کو شیرٹن ہوٹل کے باہر ایک خودکش بم حملے میں گیارہ فرانسیسی انجنیئر سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان قونصل خانے کے باہر بم برآمد15 March, 2004 | پاکستان کراچی میں امریکی قونصل خانہ بند 12 April, 2005 | پاکستان کراچی میں بم دھماکہ15 January, 2004 | پاکستان کراچی مسجد میں دھماکہ:15ہلاک07 May, 2004 | صفحۂ اول کراچی میں بم دھماکہ19 September, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||