| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بم دھماکہ
کراچی میں ایک چرچ کے باہر بم دھماکہ ہوا ہے جس میں دو پولیس والے سمیت کم سے کم گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جمعرات دوپہر ساڑھے تین بجے کے قریب صدر کے علاقہ میںپندرہ منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے۔ ایک چھوٹا دھماکہ ہوا اور دوسرا کار می نصب کئے گئے بم کا دھماکہ۔ یہ دھماکے شہر کے فائو سٹار ہوٹل آواری ٹاورز کے قریب اور پاکستان بائبل سوسائٹی اور سکرپچر دارالحطالعہ کےسامنے ہوئے۔ کراچی پولیس کے سربراہ اسد اشرف ملک نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ایک طاقتور پٹاخے کا تھا جو سوسائٹی کے دفتر کے باہر بھینکا گیا۔ اس سے سوسائٹی اور دارالطالعہ کےشیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس کے لوگ وہاں جمعہ ہوگئے۔ اسی دوران پولیس کے حکام، ایمبولینس اور ریلیف ورک والے بھی وہاں پہنچ گئے تھے اور ابھی لوگ نقصان کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ ایک طاقتور کار بم دھماکہ ہوا۔
کار بم کے دھماکے سے ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے اور وہاں سڑک پرکھڑی ہوئی کاروں میں آگ لگ گئی۔ کچھ گاڑیاں بری طرح تباہ ہوئی ہیں۔ زخمیوں میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار اور عام شہری شامل ہیں۔ جس گاڑی میں دھماکہ ہوا وہجمعرات کی صبح گلستان جوہر سے چھینی گئی تھی اور اس وقت سے پولیس وائرلیس پر اس گاڑی کی چوری کا اعلان ہوتا رہا تھا مگر کسی نے بھی مصروف سڑک پر کھڑی ہوئی چوری کی گاڑی کو نہیں دیکھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم اس گاڑی میں لگایا گیا تھا، جس سے گاڑی بری طرح تباہ ہوگئی اور اس کا انجن اُڑھ کر باہر کئی فٹ کے فاصلے پر جا گرا۔ پولیس حکام نے فی الحال کسی کو اس دھماکہ کا ذمہ دار قرار نہں دیا ہے اور تحقیقات کے بعد ہی کچھ پتا چل سکے گا جبکہ اب تک کسی نے بھی دھماکہ میں ملوث ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے کیونکہ حملہ آوروں نے زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اسی لئے پہلے چھوٹا دھماکہ کیا گیا تاکہ لوگ دہاں جمع ہو جائیں اور پھر دوسرا دھماکہ ہوا، جس سے ایک درجن لوگ زخمی ہوگئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||