کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایک بین الاقوامی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر کار بم کے دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس سے قبل ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ بتائی جا رہی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ دھماکہ پونے نو بجے کے قریب وزیرِاعلٰی ہاؤس اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے قریبی واقع پی آئی ڈی سی کی عمارت کے نزدیک ہوا۔ دھماکہ کی وجہ سے کے ایف سی ریستوران اور ایک بینک کی عمارت کوشدید نقصان پہنچا اور پوری عمات میں دراڑیں پڑ گئیں۔ علاقے میں موجود کئی بڑی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ کراچی سٹی پولیس چیف مشتاق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ ایک خودکش حملہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو سیکیورٹی اہلکار سبز علی اور افتخار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ تیسرا زخمی جاوید سول ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ سٹی پولیس چیف مشتاق شاہ کے مطابق یہ علاقہ ہائی سکیورٹی زون ہے اور اس میں کیمرے نصب ہیں۔ ملزمان کو جلد ہی پکڑ لیا جائیگا۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے تفصیل جمع کی جا رہی ہے۔ عینی شاہد گارڈ نے بتایا کہ نامعلوم لوگ کے ایف سی اور ایم سی بی بینک کے سامنے ایک ایف ایکس کار کھڑی کر گئے تھے۔ پونے نو بجے اس میں دھماکہ ہوا۔ اور گاڑی کو آگ لگ گئی۔ اس آگ نے برابر میں کھڑی ہوئی دیگر سات گاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پی آئی ڈی سی میں کام کرنے والے ایک ملازم کے مطابق پونے نو بجے تک لوگ دفتروں میں آجاتے ہیں۔ آج بھی لوگ معمول کے مطابق وقت پر پہنچ گئے تھے جب دھماکہ ہوا اس وقت صرف سیکیورٹی گارڈ باہر موجود تھے۔ موقع پر موجود سکیورٹی گارڈز کا کہنا تھا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا۔ لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے اڑ گئے۔ دریں اثناء سندھ حکومت نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو پچیس پچیس ہزار روپے دیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے بارے میں کافی شہادتیں مل گئی ہیں اور ان کو جلد ہی پکڑا جائےگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دھماکے میں کون ملوث ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا یہ بتانا قبل از وقت ہوگا۔ رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی یہ وارادت لوگوں میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش ہے۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام چاکر بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کراچی بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ دھماکے کے بعد میر چاکر بلوچ نے فون پر کہا کہ وہ کراچی میں بلوچ لبریشن آرمی کا کمانڈر ہے اور وہ تنظیم کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ چاکر بلوچ نے کہا ہے کہ انہیں بے گناہ جانوں کی ہلاکت پر افسوس ہے لیکن یہ کارروائی پاکستا ن پٹرولیم لمیٹڈ کی بلوچستان کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے کی گئی ہے۔ کراچی میں جس عمارت کے باہر دھماکہ ہوا ہے اس میں پی پی ایل کا دفتر بھی واقع تھا۔ | اسی بارے میں میکڈونلڈ، کے ایف سی میں دھماکے08 September, 2005 | پاکستان شیرٹن دھماکہ،ایک اور ملزم گرفتار08 September, 2005 | پاکستان بلوچستان سرحد پر دھماکے 12 September, 2005 | پاکستان پشین: دستی بم حملہ، ایک ہلاک14 September, 2005 | پاکستان دھماکہ:چھ ’القاعدہ‘ ارکان ہلاک05 November, 2005 | پاکستان تربت میں دھماکہ، تین افراد ہلاک07 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||