شیرٹن دھماکہ،ایک اور ملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ مفتی محمد صابر عرف جمال پوری بم بنانے کا ماہر اور شیرٹن بم دہماکے میں ملوث ہے۔ یاد رہے کہ آٹھ مارچ سن دو ہزار دو میں شیرٹن بم دھماکے میں چودہ افراد ہلاک اور تئیس زخمی ہوگئے تھے۔ اس کیس کے اہم کردار سہیل حبیب عرف خالد کو سزا موت ہوچکی ہے۔ کراچی پولیس چیف طارق جمیل نے جمعرات کے روز ڈی آئی جی انویسٹیگیشن آفس میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ صابر عرف جمال سزا یافتہ ملزم سہیل حبیب کا ساتھی ہے جو راولپنڈی سے بذریعہ بس کسی نئی پلاننگ کے تحت کارروائی کی غرض سے کراچی آرہا تھا۔ جس کی اینٹی وائلینٹ کرائم سیل کو اطلاع مل گئی۔ پولیس چیف کے مطابق صابر عرف جمال کو سہراب گوٹھ پر بس کے اڈے پر روکا گیا تو اس نے پولیس پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد پولیس نے صابر عرف جمال کو گرفتار کرلیا۔ جس سے کال ایک سفری بیگ میں مختلف قسم بارود، دو عدد بارودی لانچر نما گولے، بم الیکٹرونک سرکٹ اور کلاشنکوف کی گولیاں اور مختلف قسم کا مٹیریل برآمد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق طارق جمیل کے مطابق جس روز سہیل حبیب گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ صابر عرف جمال موجود تھا مگر فرار ہوگیا۔ صابر عرف جمال بم بنانے میں ماہر ہے۔ اس نے بم دھماکے میں میں استعمال ہونے والی گاڑی میں دھماکے دار مٹیریل لگاننے میں مدد کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کا تعلق حرکت الجہاد اسلامی سے ہے۔یہ لوگ کسی بھی واردات کے بعد منتشر ہوجاتے ہیں اور نئی واردات کے لیے پھر جمع ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے شیرٹن دہماکے کے بعد صابر عرف جمال مفرور ہوگیا تھا۔ کراچی پولیس چیف کیا کہنا تھا کہ شیرٹن بم دھماکے کیس میں صابر عرف جمال کا نام درج نہیں ہے نہ ہی چالان میں اس کا نام دیا گیا تھا۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کے مقدمہ پھر سے چلےگا یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||